Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1686 -[41]

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ فَقَامَ فَقِيلَ: إِنَّهَا جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ فَقَالَ: «إِنَّمَا قُمْت للْمَلَائكَة» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت انس سے کہ ایک جنازہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پرگزرا آپ کھڑے ہوگئے عرض کیا گیا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ ہے فرمایا کہ ہم فرشتوں کے لیے کھڑے ہوئے ۱؎(نسائی)

۱؎ یعنی ان عذاب کے فرشتوں کے لیے جو اس کافر کی گرفتاری کے لئے پکڑنے والی پولیس کی طرح اس کے ساتھ ہیں،چونکہ یہ فرشتے محافظین اور کاتبین فرشتوں سے درجے میں بڑے ہیں اس لیے ان کی تعظیم کی گئی،اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سارے فرشتوں سے افضل ہیں مگر ہمیں ادب اورتعظیم سکھانے کے لیے آپ نے یہ عمل کیا تاکہ معلوم ہو کہ قیام تعظیمی اچھی چیز ہے۔

1687 -[42]

وَعَنْ مَالِكِ بْنِ هُبَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ ثَلَاثَةُ صُفُوفٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا أَوْجَبَ» . فَكَانَ مَالِكٌ إِذَا اسْتَقَلَّ أَهْلَ الْجَنَازَةِ جَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ صُفُوفٍ لِهَذَا الْحَدِيثِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ: قَالَ كَانَ مَالِكُ بْنُ هُبَيْرَةَ إِذَا صَلَّى الْجِنَازَة فَتَقَالَّ النَّاسَ عَلَيْهَا جَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ ثَلَاثَةُ صُفُوفٍ أَوْجَبَ» . وروى ابْن مَاجَه نَحوه

روایت ہے حضرت مالک ابن ہبیرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ایسا کوئی مسلمان جو مرے تو اس پرمسلمانوں کی تین صفیں نماز پڑھیں مگر اﷲ واجب کردیتا ہے ۱؎ مالک جب جنازے والوں کو تھوڑا دیکھتے تو انہیں اس حدیث کی وجہ سےتین صفوں میں بانٹ دیتے ۲؎(ابوداؤد)ترمذی کی روایت میں یوں ہے کہ مالک ابن ہبیرہ جب جنازہ پر نماز پڑھتے جس پر لوگوں کو کم دیکھتے تو ان کے تین حصے کردیتے پھر فرماتے فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس پر تین صفیں نماز پڑھیں واجب ہوگئی۳؎ اور ابن ماجہ نے اس کی مثل روایت۔

۱؎ یہ حدیث بہت امید افزاءہے کیونکہ یہاں صفوں کی حد بیان فرمائی گئی اگر دو آدمیوں کی صفیں بھی نماز جنازہ میں ہو جائیں تب بھی میت کی بخشش کی قومی امید ہے۔یہ سب اس امت مرحومہ پرحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ سے رب کی رحمت ہے،رب کی رحمت بہانہ چاہتی ہے قیمت نہیں مانگتی۔

۲؎ اب بھی فقہاء فرماتے ہیں کہ تھوڑے نمازیوں کو بھی تین صفوں میں بانٹ کر جنازہ پڑھو یہ اسی حدیث پرعمل ہے۔خیال رہے کہ اور نمازوں میں صف اول افضل ہے مگر نماز جنازہ میں صف آخری بہتر۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ بعدنماز جنازہ دعا نہ مانگے کیونکہ اس میں نماز پر زیادتی کا اشتباہ ہے۔اس کا مطلب ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ اسی طرح صفیں بنائے ہوئے کھڑے کھڑے دعا نہ مانگیں تاکہ آنے والے کو یہ شبہ نہ ہوکہ نماز ہورہی ہے جیسے فرائض کے بعدصفیں توڑ کرسنتیں پڑھنے کا حکم ہے تاکہ جماعت کا دھوکہ نہ ہومحض دعا منع کیسے ہوسکتی ہے وہ تو سنت ہے۔

۳؎ یعنی آپ ایسے جنازے کی نماز پڑھاکر لوگوں کو یہ حدیث سنا دیتے تھے۔معلوم ہوا کہ نماز جنازہ سے پہلے یا بعد جنازے کے متعلق تھوڑا وعظ کہہ دینا منع نہیں جب کہ اس سے دفن میں دیر نہ لگے۔

1688 -[43]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَاوَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز جنازہ کے بارے میں راوی الٰہی  تو اس کا رب ہے تو نے ہی اسے پیدا کیا تو نے ہی اسے اسلام کی ہدایت دی تو نے ہی اس کی روح قبض کی تو ہی اس کے کھلے چھپے کو جانتا ہے،ہم شفیع آئے ہیں اسے بخش دے ۱؎(ابوداؤد)

 



Total Pages: 519

Go To