Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1684 -[39]

وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ كَانَ جَالِسًا فَمُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَامَ النَّاسُ حَتَّى جَاوَزَتِ الْجَنَازَةُ فَقَالَ الْحَسَنُ: إِنَّمَا مُرَّ بِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ وَكَانَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى طَرِيقِهَا جَالِسا وَكره أَن تعلوا رَأسه جَنَازَة يَهُودِيّ فَقَامَ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت جعفر ابن محمد سے ۱؎ وہ اپنے والد سے راوی کہ حضرت حسن ابن علی بیٹھے تھے کہ آپ پر جنازہ گزرا تو لوگ کھڑے ہوگئے حتی کہ جنازہ آگے بڑھ گیا ۲؎ تب حضرت حسن نے فرمایا کہ ایک یہودی کا جنازہ گزرا تھا جس کے راستہ پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھتے تھے آپ نے یہ ناپسندکیاکہ یہودی کا جنازہ آپ کے سر سے اونچا ہو اس لیے کھڑے ہوگئے۳؎(نسائی)

۱؎ آپ کا نام جعفر،لقب امام صادق ہے،والد کا نام محمد،لقب امام باقر،ان کے والدکا نام علی اوسط،لقب امام زین العابدین ہے، حادثہ کربلا سے صرف امام زین العابدین ہی بچ کر آئے تھے،حسینی سادات آپ ہی کی نسل پاک سے ہیں،امام حسین کے درمیانے صاحبزادے ہیں۔

۲؎ مگر آپ نہ کھڑے ہوئے کیونکہ آپ اس قیام کے نسخ سے واقف ہوچکے تھے لہذا یہ روایت گزشتہ کے خلاف نہیں۔

۳؎ یعنی وہاں سے اٹھ گئے تو آپ کا یہ قیام تعظیمًا نہ تھا بلکہ توہین یہود کے لیے تھا۔خیال رہے کہ قیام جنازہ کی بہت سی وجہیں آئی ہیں:فرشتوں کی تعظیم،میت مؤمن کا احترام،موت کی ہیبت وغیرہ ان میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے۔ہوسکتا ہے کہ مختلف موقعوں پرمختلف وجہیں ہوں،اس نیت سے کھڑا ہوجانا اب بھی بہتر ہے بشرطیکہ جنازہ کافر کا ہو اورمسلمان اس کے عین رستہ پربیٹھا ہو،یہ حدیث منقطع ہے کیونکہ امام محمد باقر نے امام حسن سے ملاقات نہیں کی لہذا درمیان میں کوئی راوی چھوٹ گیا۔

1685 -[40]

وَعَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا مَرَّتْ بِكَ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ أَوْ نَصْرَانِيٍّ أَوْ مُسْلِمٍ فَقُومُوا لَهَا فَلَسْتُمْ لَهَا تَقُومُونَ إِنَّمَا تَقُومُونَ لِمَنْ مَعهَا من الْمَلَائِكَة» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب یہودی یا عیسائی یا مسلمان کا جنازہ تم پرگزرے تو تم کھڑے ہوجاؤ تم اس کے لیے نہیں کھڑے ہوتے بلکہ اس کے ساتھ والے فرشتوں کے لیئے کھڑے ہوتے ہو ۱؎(احمد)

۱؎ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ابوموسیٰ کو قُوْمُوْا فرمانا احترام کے لیے ہے یا بظاہر خطاب ان سے ہے اور درحقیقت ساری امت سے ہے جیسے"یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ"۔پہلےعرض کیاجاچکاہے کہ یہ اور اس کی قسم کی ساری احادیث منسوخ ہیں مگر وجوب منسوخ ہے جواز باقی اور کافر کے جنازے کے لیے کھڑا نہ ہونا بہتر کہ تمہاری نیت اگرچہ فرشتوں کی تعظیم ہوگی مگر دیکھنے والے اسے کافر کی تعظیم سمجھیں گے۔

1686 -[41]

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ فَقَامَ فَقِيلَ: إِنَّهَا جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ فَقَالَ: «إِنَّمَا قُمْت للْمَلَائكَة» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت انس سے کہ ایک جنازہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پرگزرا آپ کھڑے ہوگئے عرض کیا گیا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ ہے فرمایا کہ ہم فرشتوں کے لیے کھڑے ہوئے ۱؎(نسائی)

 



Total Pages: 519

Go To