Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1681 -[36]

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبِعَ جَنَازَةً لَمْ يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ فَعَرَضَ لَهُ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ لَهُ: إِنَّا هَكَذَا نضع يَا مُحَمَّدُ قَالَ: فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «خَالِفُوهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَبِشْرُ بْنُ رَافِعٍ الرَّاوِي لَيْسَ بِالْقَوِيّ

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جنازے کے ساتھ جاتے تو نہ بیٹھتے حتی کہ میت قبر میں رکھ دی جاتی آپ کے سامنے ایک یہودی پادری آیا عرض کیا کہ اے محمد ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں فرمایا کہ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھنے لگے اور فرمایا کہ ان کی مخالفت کرو  ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث غریب ہے اور بشر ابن رافع راوی قوی نہیں ہے۔

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ کفار کی مشابہت سے بچناچاہیئے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دفن سے پہلے کھڑا رہنا صرف اس لئے چھوڑا کہ یہود کا شعار تھا۔خیال رہے کہ مشابہت اور چیز ہے موافقت کچھ اور چیز۔وہ جوحدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے وہ مشرکین مکہ کے مقابلے میں تھا اورموافقت کے طور پر تھا نہ کہ مشابہت کے،جیسے مشرکین بالوں میں کنگھی نہ کرتے تھے اہلِ کتاب کرتے تھے تو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے کنگھی کرنا پسند فرمایا لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔حکم اسلامی کے مقابلے میں یہودونصاریٰ کی مشابہت کرنا بڑا جرم ہے۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو اپنی وضع قطع،صورت،سیرت عیسائیوں کی سی رکھتے ہیں۔

1682 -[37]

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِالْقِيَامِ فِي الْجَنَازَةِ ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ ذَلِكَ وَأَمَرَنَا بِالْجُلُوسِ. رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا حکم دیاتھا اس کے بعدپھر آپ بیٹھنے لگے اورہمیں بھی بیٹھا رہنے کاحکم دیا ۱؎(احمد)

۱؎ یعنی جنازے کے احترام یا ہیبت کے لیےمحض کھڑا ہوجانا اولًا اسلام میں واجب تھا اب یہ وجوب منسوخ ہوگیا،جواز اب بھی باقی ہے،پہلا امروجوبی ہے دوسرا اباحت کا۔بعض فقہاء اس قیام کو مکروہ فرماتے ہیں یعنی تنزیہی۔

1683 -[38]

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: إِنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ فَقَامَ الْحَسَنُ وَلَمْ يَقُمِ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ الْحَسَنُ: أَلَيْسَ قَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ؟ قَالَ: نَعَمْ ثُمَّ جلس. رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت محمد ابن سیرین سے فرماتے ہیں کہ ایک جنازہ حضرت حسن ابن علی اور ابن عباس پرگزرا تو حسن کھڑے ہوگئے ابن عباس نہ کھڑے ہوئے امام حسن نے فرمایا کہ کیا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم یہودی کے جنازے کے لیے نہ کھڑے ہوئے فرمایاہاں پھر بیٹھنے لگے ۱؎(نسائی)

۱؎ یعنی کھڑا ہونا یا نہ ہونا دونوں حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے عمل ہیں مگر نہ ہونا بعد کا ہے لہذا ناسخ ہے،حضرت ابن عباس نے امام حسن پر اعتراض نہ کیا۔معلوم ہوا قیام بھی جائز ہے۔

 



Total Pages: 519

Go To