Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

فرماتاہے:"وَاعْتَصِمُوۡابِحَبْلِ اللہِ جَمِیۡعًا"۔فتنۂ قبر وہاں کے امتحان کی ناکامی ہے اور آگ کا عذاب دوزخ کا عذاب ہے خواہ قبر میں ہو یا دوزخ میں پہنچ کر۔یہ دعا ء بہت ہی جامع ہے۔

1678 -[33]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ وَكُفُّوا عَنْ مُسَاوِيهِمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ علیہ وسلم نے اپنے مُردوں کی خوبیاں بیان کرو اور ان کی برائیوں سے باز رہو ۱؎(ابوداؤد،ترمذی)

۱؎ یعنی مسلمان کی بعدموت اچھائیاں کبھی کبھی بیان کیاکرو کہ نیکیوں کے ذکر سے رحمت اترتی ہے،ان کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہو کیونکہ مردے کی غیبت زندہ کی غیبت سے سخت تر ہے کہ زندہ سے معافی مانگی جاسکتی ہے مردے سے نہیں،اسی لیے علماء فرماتے ہیں کہ اگر غسال مردے پر کوئی نیک علامت دیکھے خوشبو یا چہرے کا نوردیکھے تو لوگوں میں چرچاکرے اور اگر بری علامت دیکھے بدبو یا چہرے کا بگڑجانا تو اس کا کسی سے ذکر نہ کرے کیونکہ ہمیں بھی مرنا ہے نہ معلوم ہمارا کیا حال ہو،بے دین کی برائی ضرور کرے تاکہ لوگ بے دینی سے بچیں،اس کی شرح پہلےگزرچکی۔یزید و حجاج وغیرہ کو آج بھی برا کہاجاتاہے کیونکہ یہ فساق ہیں،ان کا فسق ظاہرکرو تاکہ لوگ ان جیسے کاموں سے بچیں۔

1679 -[34]

وَعَنْ نَافِعٍ أَبِي غَالِبٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَلَى جَنَازَةِ رَجُلٍ فَقَامَ حِيَال رَأسه ثمَّ جاؤوا بِجَنَازَةِ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالُوا: يَا أَبَا حَمْزَةَ صَلِّ عَلَيْهَا فَقَامَ حِيَالَ وَسَطِ السَّرِيرِ فَقَالَ لَهُ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ على الْجِنَازَة مَقَامَكَ مِنْهَا؟ وَمِنَ الرَّجُلِ مَقَامَكَ مِنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ نَحْوُهُ مَعَ زِيَادَةٍ وَفِيهِ: فَقَامَ عِنْد عجيزة الْمَرْأَة

روایت ہے حضرت نافع ابی غالب سے ۱؎ فرماتےہیں کہ میں نے حضرت انس ابن مالک کے ساتھ ایک مرد کے جنازے پرنماز پڑھی۲؎ تو آپ اس کے سر کے مقابل کھڑے ہوئے پھر لوگ ایک قریشی عورت کاجنازہ لائے بولے اے ابوحمزہ اس پر نماز پڑھیئے تو آپ درمیان تخت کے مقابل کھڑے ہوئے ان سے علاء ابن زیاد نے عرض کیا کہ کیا آپ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنازے پر ایسے ہی کھڑے ہوئے دیکھا جیسے آپ مرد اورعورت کے جنازے پر کھڑے ہوئے فرمایا ہاں ۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ابوداؤد کی روایت میں اس کی مثل ہے کچھ زیادتی کے ساتھ اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ عورت کے سیرین کے مقابل کھڑے ہوئے۴؎

۱؎ آپ تابعین میں سےہیں،نام نافع ہے،کنیت ابوغالب،یہ وہ مشہور نافع نہیں یعنی عبداﷲ ابن عمر کے غلام۔

۲؎ یہ مرد سیدنا عبداﷲ ابن عمر تھے جن کی نماز سیدنا انس نے پڑھائی تھی۔(مرقات)

۳؎ اس حدیث پر امام شافعی کا عمل ہے،ان کے ہاں امام مرد کے سر کے مقابل،ہمارے ہاں مرد ہویاعورت سب کے سینہ کے مقابل کھڑا ہوکیونکہ یہ ایمان کی جگہ ہے۔اس کی نہایت ہی نفیس تحقیق اور مذہب حنفی کی ترجیح ابھی اسی باب میں گزرچکی کہ



Total Pages: 519

Go To