Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1666 -[21]

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَرَسٍ مَعْرُورٍ فَرَكِبَهُ حِينَ انْصَرَفَ مِنْ جَنَازَةِ ابْنِ الدَّحْدَاحِ وَنَحْنُ نمشي حوله. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ننگا گھوڑا لایا گیا جس وقت آپ ابن دحداح کے جنازے سے واپس لوٹے اور ہم آپ کے اردگرد پیدل تھے ۱؎(مسلم)

۱؎ اس حدیث میں بعض لوگوں نے ابوالداح نقل کیا ہے مگر یہ غلط ہے کیونکہ ابوالداح کا انتقال امیرمعاویہ کے زمانہ میں ہوا، ہاں ثابت ابن داحدح نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں وفات پائی،بعض شارحین نے کہا کہ ان کی کنیت بھی ابو الدحداح تھی۔خیال رہے کہ میت کے ساتھ جاتے وقت گھوڑے پر سوار ہونے میں اختلاف ہے مگر واپسی میں بالاتفاق سوار ہوناجائز ہے۔

 

الفصل الثانی

دوسری فصل

1667 -[22]

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الرَّاكِبُ يَسِيرُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ والماشي يمشي خلفهَا وأمامها وَعَن يَمِينهَا وَعَن يسارها قَرِيبا مِنْهَا وَالسَّقْطُ يُصَلَّى عَلَيْهِ وَيُدْعَى لِوَالِدَيْهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ وَالتِّرْمِذِيِّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه قَالَ: «الرَّاكِب خلف الْجِنَازَة وَالْمَاشِي حَيْثُ شَاءَ مِنْهَا وَالطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ» وَفِي المصابيح عَن الْمُغيرَة بن زِيَاد

روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے ۱؎ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوار جنازے کے پیچھے ہی چلے۲؎ اور پیدل اس کے آگےوپیچھے،دائیں،بائیں اس کے قریب چلے ۳؎ اور گرے بچے پرنماز پڑھی جائے گی۴؎ جس میں اس کے ماں باپ کے لیے بخشش اور رحمت کی دعا کی جائے ۵؎(ابوداؤد)اور احمد، ترمذی،نسائی،ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ سوار جنازے کے پیچھے چلے اور پیدل جدھر چاہے اور بچے پر نماز پڑھی جائے اور مصابیح میں مغیرہ بن زیادہ سے ہے۔

۱؎ آپ قبیلہ بنی ثقیف سے ہیں،خندق کے سال ایمان لائے،امیرمعاویہ کی طرف سے کوفہ کے گورنر رہے،ستر سال عمر ہوئی،  ۵۰ھ؁ میں کوفہ میں ہی وفات پائی،آپ سے بہت احادیث مروی ہیں۔

۲؎ جنازے میں شرکت کرنے والا عذرًا سوار ہوسکتا ہے بلاعذر پیدل جانا افضل ہے مگرسوار میت کے آگے نہ چلے۔

۳؎ پیدل جانے والے کوبھی پیچھے چلنا افضل ہے لیکن آگے چلنابھی جائز۔آج کل میت کے آگے نعت خوانی ہوتی جاتی ہے اور نعت خواں میت کے آگے چلتے ہیں یہ جائز ہے۔میت سے قریب رہنا اس لیے افضل ہے کہ بوقت ضرورت مدد کرنے میں بھی آسانی رہے گی اورعبرت زیادہ ہوگی۔

۴؎ بشرطیکہ زندہ پیدا ہوا ہوجیساکہ حضرت جابر کی روایت آگے آرہی ہے،اس کی زندگی رونے یاحرکت سےمعلوم ہو۔اگر مردہ بچہ پیدا ہوا ہے تو اس کی نماز جنازہ نہیں۔امام احمد کے نزدیک اگر چار ماہ یا زیادہ کا بچہ ساقط ہوا ہے تو اگرچہ مردہ پیدا ہوا اس



Total Pages: 519

Go To