Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ افطار کے لیے۔غالبًا روزہ نفلی تھا،کھانا بہترین اور پرتکلف تھاجیساکہ اگلے مضمون سےمعلوم ہورہا ہے کہ آپ بہترین کھانا دیکھ کر حضرت مصعب و حمزہ کی موت کی بے کسی یاد کرکے رونے لگے۔

۲؎ آپ کا یہ فرمان عجز و انکساری کے لیے ہے ورنہ آپ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اورحضرت مصعب و حمزہ ان میں سے نہیں۔تمام کا اس پر اتفاق ہے کہ عشرہ مبشرہ دیگر صحابہ سے افضل ہیں۔(لمعات)

۳؎ یہ خوف صحابہ کی حد ہے کیونکہ ان بزرگوں کا سارا مال حلال و طیب تھا جو غنیمتوں اورتجارتوں سے حاصل ہوا،پھر ان مالوں سے ان بزرگوں نے بڑی دینی خدمات کیں اس کے باوجود اتنا خوف خدا ہے۔خیال رہے کہ حضرت مصعب ابن عمیر اسلام سے پہلے بڑے مالدا رتھے،بہت خوش پوش اور خوش غذا تھے،اسلام و ہجرت کے بعد یہ حال ہوا کہ سخت گرمیوں میں چمڑے کا لباس پہنتے تھے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار ان کو دیکھ کر رو پڑے کہ پہلے کیا حال تھا اور اب کیا حال ہے۔

۴؎ حالانکہ دن بھر کے روزے دار تھے،آپ کی نظر اس آیت کریمہ پرپہنچی"مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الْعَاجِلَۃَ عَجَّلْنَا لَہٗ فِیۡہَا مَا نَشَآءُ

1645 -[12] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ بَعْدَمَا أُدْخِلَ حُفْرَتَهُ فَأَمَرَ بِهِ فَاخْرُج فَوَضعه على رُكْبَتَيْهِ ن فَنَفَثَ فِيهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ قَالَ: وَكَانَ كسا عباسا قَمِيصًا الْمَشْي بالجنازة وَالصَّلَاة عَلَيْهَا

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم عبداﷲ ابن ابی کے پاس اس کے غار میں رکھ دیئے جانے کے بعد پہنچے آپ نے حکم دیا وہ نکالا گیا اس کو اپنے گھٹنوں پر رکھا اس میں اپنا لعاب شریف ڈالا اسے اپنی قمیص پہنچائی ۱؎ راوی فرماتے ہیں کہ عبداﷲ نے حضرت عباس کو قمیص پہنائی تھی۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ معلوم ہوا کہ میت کو برکت کے لیے بزرگوں کو لعاب ڈالنا،اسے بزرگوں کاکپڑا دینا سنت ہے اگرچہ کافر و منافق اس سے فائدہ نہ حاصل کرسکیں،مگر بادل تو ہر اچھی بری،پاک و گندی زمین پر برستا ہے آگے زمین کی تقدیر کہ بارش سے فائدہ اٹھائے یا نہ اٹھائے،لہذا اس حدیث سے نہ تو یہ ثابت ہوتاہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم عبداﷲ ابن ابی کے نفاق سے بے خبر تھے اور نہ یہ کہ آپ کو خبر نہ تھی کہ کافر کو یہ تبرکات مفید نہیں۔صحیح روایات میں ہے کہ عبداﷲ ابن ابی منافق کا بیٹا عبیداﷲ سچا مؤمن صحابی تھا،اس کی دلجوئی کے لیے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل کیا اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس رحم خسروانہ کو دیکھ کر بہت سے منافق مخلص مؤمن بن گئے۔دیکھو ہماری کتاب"جاء الحق

۲؎ اس جگہ مرقاۃ نے دو واقعہ بیان کیے:ایک یہ کہ حضرت عباس جب بدر میں قید ہوکر آئے تو ننگے تھے،عبداﷲ ابن ابی منافق نے اپنی قمیص آپ کو پہنادی کیونکہ وہ آپ کے ٹھیک تھی کہ وہ بھی لمبا تھا اور آپ بھی دراز قامت،حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے نہ چاہا کہ اس منافق کا احسان میرے چچا پر رہ جائے اس لیے اسے مرنے کے بعد اپنی قمیص دے دی۔دوسرے یہ کہ جب یہ منافق بیمار ہوا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا،حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداﷲ کو محبت یہودہ جاہ نے ہلاک کردیا،وہ بولا کہ یارسول اﷲ میں نے آپ کو طعنے دینے کے لیے نہیں بلایا ہے بلکہ دعا کے لیے بلایا ہے اور آپ سے عرض کیا کہ آپ میری نماز جنازہ پڑھائیں اور مجھے اپنی قمیص برکت کے لیے عطا کریں،اس کی موت کے بعد اس کے بیٹے عبیداﷲ نے



Total Pages: 519

Go To