Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۳؎ اس طرح کہ بیری کے پتے پانی میں جوش دے لوکیونکہ بیری سے میل خوب کٹتا ہے،جوئیں وغیرہ صاف ہوتی ہیں اور اس سے میت کا بدن جلد بگڑتا نہیں۔تین بارغسل دینا سنت ہے،سات بار تک جائز اور بلاوجہ اس سے زیادہ مکروہ۔بیری کا استعمال پہلی بار میں سنت ہے،باقی میں جائز۔خیال رہے کہ غسل میت میں کلی اور ناک میں پانی نہیں۔

۴؎ یعنی آخری بار جو پانی ان پر بہاؤ اس میں کچھ کافور ملا ہو کیونکہ یہ بہترین خوشبو ہے،اس سےکیڑے مکوڑے جسم کے قریب نہیں آتے۔جمہور علماءیہی فرماتےہیں کہ کافور آخری پانی میں ملایا جائے،بعض نے فرمایا کہ اسے خوشبوؤں میں شامل کیا جائے۔بہتر یہ ہے کہ دونوں جگہ استعمال کیا جائے۔

۵؎ شعار وہ کپڑا کہلاتا ہے جو جسم سے ملا رہے،شعریعنی بالوں سے ملا ہوا،دثار اوپر والےکپڑے کو یعنی میرا تہبند شریف ان کے جسم سے ملا ہوا رکھو اورکفن اوپر۔یہ تہبند کفن میں شمار نہ تھا بلکہ برکت اور قبر کی مشکلات حل کرنے کے لیے رکھا گیا۔اس سے تین مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بزرگوں کے بال،ناخن،ان کے استعمال کے کپڑے تبرک ہیں جن سے دنیا،قبر و آخرت کی مشکلات حل ہوتی ہیں،قرآن شریف میں ہے کہ یوسف علیہ السلام کی قمیض کی برکت سے یعقوب علیہ السلام کی نابینا آنکھیں روشن ہوگئیں۔احادیث میں ثابت ہے کہ حضرت امیرمعاویہ،عمرو ابن عاص و دیگرصحابہ کرام نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ناخن،بال وتہبند شریف اپنے ساتھ قبر میں لے جانے کے لیے محفوظ رکھے۔دوسرے یہ کہ بزرگوں کے تبرکات اور قرآنی آیت یا دعا کسی کپڑے یا کاغذ پرلکھ کر میت کے ساتھ قبر میں دفن کرنا جائز بلکہ سنت ہے۔تیسرے یہ کہ ان چیزوں کے متعلق یہ خیال نہ کیا جائے کہ جب میت پھولے پھٹے گی تو ان کی بے حرمتی ہوگی،دیکھو سورۂ فاتحہ لکھ کر دھوکر بیمار کوپلاتے ہیں،یونہی آبِ زمزم برکت کے لیے پیتے ہیں حالانکہ پانی پیٹ میں پہنچ کر کیا بنتا ہے سب کو معلوم ہے۔کفنی الفی لکھنے اورتبرکات کفن میں رکھنے کی پوری بحث ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں دیکھو۔

۶؎ یعنی پہلے میت کو وضو کراؤ پھر اس طرح غسل دو کہ اولًا داہنا حصہ دھوؤ پھر بایاں،یہاں مرقاۃ نے فرمایا کہ اگر غسال انگلی پر کپڑا لپیٹ کر تر کرکے اس کے دانتوں اورنتھنوں پرپھیر دے تو مستحب ہے۔

۷؎ حضرت ام عطیہ کا یہ عمل اپنی رائے سے ہوگا کہ عمومًا عورتیں بالوں کے تین حصے کرکے چوٹی بُنتی ہیں جس سے وہ سارے بال پیٹھ کے پیچھے رہتے ہیں۔سنت یہ ہے کہ میت عورت کے بال کے دو حصے کیے جائیں ایک حصہ داہنی طرف سے دوسرا بائیں سے سینہ پر ڈال دیا جائے،سارے بالوں کا پیچھے رہنا مسنون نہیں۔

1635 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ يَمَانِيَّةٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ مِنْ كُرْسُفٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَة

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سوتی یمنی سحولی سفیدکپڑوں میں کفن دیا گیا جن میں قمیص اور عمامہ نہ تھے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سوتی یعنی سفید کپڑے کا کفن دیا گیا یہی سنت ہے،اونی یا ریشمیں کفن سنت کے خلاف ہے بلکہ مرد کے لیے ریشمیں کفن حرام ہے۔یہاں قمیص سے سلی ہوئی قمیص مراد ہے جو زندگی میں پہنی جاتی ہے کفن کی قمیص مراد نہیں کہ وہ تو سنت ہے۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ غسل کے وقت قمیص اتارلی گئی تھی،لہذا یہ حدیث حضرت جابر ابن سمرہ کی اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا:قمیص،ازار اورلفافہ کہ



Total Pages: 519

Go To