$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب غسل المیت وتکفینہ

میت کے غسل اورکفن کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ تمام امت کا اس پر اتفاق ہے کہ مؤمن میت کا غسل فرض کفایہ ہے۔حق یہ ہے کہ یہ غسل نجاست نہیں بلکہ غسل جنابت کی طرح حدث سےغسل ہے یعنی مؤمن کی نیند وضو توڑتی ہے اور اس کی موت غسل کیونکہ حضرت ابوہریرہ کی ایک روایت یوں ہے کہ مؤمن کی زندگی اور موت میں نجس نہیں ہوتا۔(اشعہ)ہاں کافر اور جانور کی موت اسے نجس کردیتی ہے مگر شہید کی موت اس میں حدث بھی پیدا نہیں کرتی،نبی کی نیند وضو نہیں توڑتی اورشہید کی موت غسل نہیں توڑتی۔کفن تین قسم کے ہیں:کفن سنت مرد کے لیے تین کپڑے،عورت کے لیے پانچ۔کفن کفایت مرد کے لیے دو کپڑے،عورت کے تین۔کفن ضرورت مَرد عورت دونوں کے لیے ایک ایک کپڑا۔

1634 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُغَسِّلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي فَلَمَّا فَرَغْنَا آذناه فَألْقى إِلَيْنَا حقوه وَقَالَ: «أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ» وَفِي رِوَايَةٍ: " اغْسِلْنَهَا وِتْرًا: ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا وَابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا ". وَقَالَتْ فَضَفَّرْنَا شَعَرَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ فألقيناها خلفهَا

روایت ہے حضرت ام عطیہ سے ۱؎ فرماتی ہیں ہم پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جب کہ ہم آپ کی صاحبزادی کو غسل دے رہے تھے۲؎ تو فرمایا کہ انہیں تین بار یا پانچ بار اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ بار پانی اور بیری سے غسل دو۳؎ آخر میں کافور(یا فرمایا کچھ کافور)ڈال دو۴؎ جب فارغ ہوجاؤ تو مجھے اطلاع دو جب ہم فارغ ہوگئیں تو ہم نے آپ کو اطلاع دی آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند شریف پھینکا اور فرمایا کہ اسے ان کے کفن کے نیچے رکھ دو ۵؎ اور ایک روایت میں ہے کہ انہیں طاق تین یا پانچ یا سات بارغسل دو اور داہنی طرف اور اعضائے وضو سے ابتداءکرو ۶؎ فرماتی ہیں کہ ہم نے ان کے بالوں کے تین حصے کئے جنہیں ان کے پیچھے ڈالا ۷؎(مسلم،بخاری)

۱؎ آپ کانام نسیبہ بنت کعب ہے،انصاریہ ہیں،اکثرحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوؤں میں شریک رہیں،زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھی۔

۲؎ یہ صاحبزادی حضرت زینب بنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم زوجہ ابوالعاص ابن ربیع ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اولاد میں بڑی تھیں،     ۸ھ؁ میں وفات پائی،بعض نے فرمایا کہ امّ کلثوم زوجہ حضرت عثمان تھیں جن کی وفات     ۹ھ؁ میں ہوئی مگر قول اول قوی ہے۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html