Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۲؎ ام بشر کی صحابیت میں اختلاف ہے،البتہ ان کے والد براء ابن معرور مشہور صحابی ہیں جنہوں نے عقبہ ثانیہ میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔

۳؎ حق یہ ہے کہ فلاں سے مراد ان کے بیٹے بشر ہیں جو ان کی زندگی میں فوت ہوگئے تھے جس کا انہیں بہت صدمہ ہوا تھا،مدینہ منورہ میں جوبھی فوت ہوتا اس کی معرفت اپنے بیٹے کو سلام کہلا کربھیجتی تھیں،اس سلسلہ میں آپ کے پاس بھی آئیں۔اگر "ملو" کا مطلب یہ ہے کہ اگر تمہاری روح اسی جماعت میں سے ہوجس سے بشر ہے تو تم ضرور ان کے پاس جاؤ گے اور ان کے ساتھ رہو گے۔

۴؎ یعنی بعدموت اپنی حالت میں گرفتار ہونا اورکسی کوکسی کی خبر نہ ہونا کفار کے لیے ہے،تمہاری موت تو مشغولیتیں ختم ہونے اور اطمینان شروع ہونے کا وقت ہے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کی روحیں جنت میں پہنچ جاتی ہیں اسی لیے اس طقبہ کا نام جنت الماوی ہے یعنی روحوں کی پناہ لینے کی جگہ،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے،ان کے نزدیک شہداء کے لیے جنت کا خاص طبقہ ہے۔اس سےمعلوم ہوا کہ روح کے لیے فنا نہیں جنتیں اور وہاں کی نعمتیں پیدا ہوچکی ہیں۔

1632 -[17]

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّا نسمَة الْمُؤمن طير طَيْرٌ تَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يُرْجِعَهُ اللَّهُ فِي جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَالنَّسَائِيّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي كتاب الْبَعْث والنشور

روایت ہے انہی سے وہ اپنے والد سے راوی وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن کی روح پرندہ ہے جو جنت کے درخت میں لٹکایاجاتاہے حتی کہ اﷲ جس دن اسے اٹھائے گا اس کے جسم میں لوٹائے گا ۱؎(مالک، نسائی،بیہقی فی کتاب البعث و النشور)

۱؎ یعنی بعدموت مؤمن کی روح پرندے کی شکل میں جنت کے درختوں میں رہتی ہے اوروہاں کے پھل کھاتی ہے۔فرق یہ ہے کہ روحیں ہر وقت کھاتی ہیں اور ان کی روحیں صبح و شام۔ظاہر یہ ہے کہ اس سے عام مؤمن مراد ہیں،روح کہیں بھی رہے مگر اس کا جسم سےتعلق رہتاہے۔مرقاۃ نے اس جگہ فرمایا کہ مرنے کے بعد مؤمن کا جسم بھی روح کی طرح لطیف ہوجاتا ہے۔چنانچہ مؤمن بعدوفات جہاں چاہے عالَم کی سیرکرتا ہے،دیکھو معراج کی رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم روح کی طرح نورہوچکا تھا اور اولیاءاﷲ کے لیے تمام زمین سمیٹ دی گئی ہے،وہ بیک وقت مختلف جگہ میں موجود ہوسکتے ہیں،ان کی یہ کرامت تو دنیا کی اس زندگی میں دیکھی گئی ہے،پھر عالم ارواح کا کیا پوچھنا۔بعض شارحین نے اس حدیث کا اس لیے انکارکیا کہ یہ عقل سے وراء ہے،اگر انسانی روح پرندوں میں پہنچ جائے تو آریوں کا آواگون ثابت ہوگا مگر یہ ان کی جہالت ہے وہ روح خود اس شکل میں ہوجاتی ہے آواگون سے اسے کیا تعلق،اس میں تو روح انسانی کتے یا گدھے کی روح بن جاتی ہے۔مؤمن کی روح کا پرندہ بن جانا ایسا ہی ہے جیسے فرشتوں کا شکل انسانی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہونا۔

1633 -[18]

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَمُوتُ فَقُلْتُ: اقْرَأْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَام. رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت محمد ابن منکدر سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت جابر ابن عبداﷲ کے پاس گیا جب کہ وہ وفات پارہے تھے میں نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا سلام کہنا ۱؎(ابن ماجہ)

 



Total Pages: 519

Go To