Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ آپ عروہ بن زبیر ہیں،قریشی ہیں،اسدی ہیں،جلیل القدر تابعی ہیں،مدینہ کے بڑے فقیہ اورمحدث ہیں،صائم الدہر تھے،صدیق اکبر کے نواسے ہیں،حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کے فرزند،   ۲۲ھ  ؁ میں ولادت ہوئی،   ۹۴ھ ؁ میں وفات پائی، آپ کا ایک باغ اور کنواں مدینہ منورہ میں اب تک مشہور ہے لوگ برکت کے لیے اس کا پانی پیتے ہیں۔فقیر نے بھی وہاں حاضری دی ہے،بیرعروہ کے نام سے مشہور ہے۔

۲؎ ظاہر یہ ہے کہ آپ نے کچھ رکوع رکعت اول میں پڑھے اور کچھ دوسری رکعت میں اور ہوسکتا ہے کہ پوری سورۂ بقر پڑھی،آدھی پہلی رکعت میں اور آدھی دوسری  میں۔یہ بھی بیان جواز کے لیے ہے ورنہ فجر کی نماز میں چالیس سے ساٹھ آیتوں تک پڑھنا مستحب ہے۔

864 -[43]

وَعَن الفرافصة بن عُمَيْر الْحَنَفِيّ قَالَ: مَا أَخَذْتُ سُورَةَ يُوسُفَ إِلَّا مِنْ قِرَاءَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ إِيَّاهَا فِي الصُّبْحِ وَمن كَثْرَة مَا كَانَ يُرَدِّدهَا. رَوَاهُ مَالك

روایت ہے حضرت فرافصہ ابن عمیرحنفی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے سورت یوسف نہیں یاد کی مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے فجر میں پڑھنے سے کیونکہ آپ یہی بار بار پڑھتے تھے ۲؎(مالک)

۱؎ آپ تابعین میں سے ہیں،مدینہ منورہ کے باشندے،قبیلہ بنی حنیفہ سے ہیں جو یمامہ کا مشہور قبیلہ ہے۔

۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ ایک سورت بار ہا نمازوں میں پڑھنا بلاکراہت جائز ہے۔دیکھو حضرت فرافصہ عثمان غنی سے سنتے سنتے اس سورت کے حافظ ہوگئے۔

865 -[44]

وَعَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: صلينَا وَرَاء عمر ابْن الْخطاب الصُّبْح فَقَرَأَ فيهمَا بِسُورَةِ يُوسُفَ وَسُورَةِ الْحَجِّ قِرَاءَةً بَطِيئَةً قِيلَ لَهُ: إِذًا لَقَدْ كَانَ يَقُومُ حِينَ يَطْلُعُ الْفجْر قَالَ: أجل. رَوَاهُ مَالك

روایت ہے حضرت عامرابن ربیعہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عمر ابن خطاب کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے ان دو رکعتوں میں نہایت آہستہ سورۂ یوسف اور سورۂ حج پڑھی ۲؎ ان سے کہا گیا کہ تب تو آپ فجرچمکتے ہی کھڑے ہوجاتے ہوں گے فرمایا ہاں ۳؎(مالک)

۱؎ آپ مشہورصحابی ہیں،عمر فاروق سے پہلے ایمان لائے،دوہجرتوں کے مہاجر ہیں،بدر اور تمام غزوات میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے،۳۲ ھ  ؁ یا  ۳۵ھ  ؁ میں وفات پائی۔

۲؎ یعنی پہلی رکعت میں پوری سورۂ یوسف اور دوسری میں پوری سورۂ حج جیسا کہ اگلے کلام سے معلوم ہورہا ہے اور یقینًا آپ نے سورۂ حج کا سجدہ بھی ادا کیا ہوگا۔اس کی تحقیق پہلے کی جاچکی کہ اب سوا تراویح کے اور نمازوں میں عوام کے ساتھ آیتِ سجدہ نہیں پڑھنی چاہیے۔

۳؎ کیونکہ اتنی لمبی سورتیں جب ہی پڑھی جاسکتی ہیں جب کہ وقت زیادہ ملے۔خیال رہے کہ بعض آئمہ کے ہاں مستحب یہ ہے کہ فجر اندھیرے میں شروع کرے اور اجیالے میں ختم کرے،یہ حدیث ان کی دلیل ہے،ہمارےہاں شروع بھی اجیالے میں کرے اور ختم بھی۔حضرت فاروق اعظم کا یہ فعل اتفاقی ہے اور بیان جواز کے لیے۔

866 -[45]

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: مَا مِنَ الْمُفَصَّلِ سُورَةٌ صَغِيرَةٌ وَلَا كَبِيرَةٌ إِلَّا قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ بِهَا النَّاسَ فِي الصَّلَاة الْمَكْتُوبَة. رَوَاهُ مَالك

روایت ہےحضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ مفصل کی کوئی چھوٹی بڑی سورت ایسی نہیں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے نہ سنی ہو جس سے آپ فرض نماز میں لوگوں کی امامت کرتے تھے ۱؎(مالک)

 



Total Pages: 519

Go To