Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۴؎ یعنی ہر آسمان پر اس کا استقبال ہوتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ آسمانی فرشتے ہر انسان کا نام اور اس کے اعمال جانتے ہیں ورنہ انہیں محض نام بتانا بالکل بیکار ہوتا۔آسمان میں اﷲ کے ہونے سے مراد اس کی تجلی،اس کے نور وغیرہ کا ہونا ہے،ورنہ رب تعالٰی آسمان یا زمین میں ہونے سے پاک ہے،مکان جسم یاجسمانیات کے لیے ہوتا ہے۔غالبًا اس آسمان سے عرش اعظم مراد ہے کہ وہ بھی ایک آسمان ہی ہے۔

۵؎ برے سے مراد کافر ہے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ ہے کہ مؤمن متقی اور کافر کے حالات بیان فرماتے ہیں،مؤمن فاسق کا پردہ رکھتے ہیں کرم نوازی سے۔

۶؎ یعنی تیرے عقائدبھی برے تھے،اعمال بھی گندے۔خیال رہے کہ اگر کافر اچھے اعمال صدقہ و خیرات بھی کرے جب بھی اس کاجسم گندا ہی ہے،کتا سمندرمیں نہانے سےبھی گندا ہی ہوتاہے،نیز نیک اعمال درستی عقیدہ کےبغیرقبول نہیں۔

۷؎ اس خبرکو بشارت فرمانا طنز وطعن کے طور پر ہے،رب فرماتاہے:"فَبَشِّرْہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ"۔خیال رہے کہ کافر کو یہ عذاب بعدقیامت دوزخ میں پہنچ کر ہوں گے،ہاں دوزخ کی گرمی،تپش،دھواں برزخ میں بھی پہنچتا رہے گا۔

۸؎ یعنی روح لے جانے والے فرشتے آسمانوں کے دروازے کافر کی روح کے لیے کھلواتے ہیں مگر وہاں کے دربان کھولتے نہیں،یہ کھلوانا بھی اسے ذلیل کرنے کو ہے،ورنہ یہ فرشتے جانتے ہیں کہ اس کے لیے دروازہ کھلے گا نہیں۔

۹؎ یہاں قبر سے مراد مقام سجّین ہے جو ساتویں آسمان کے نیچے ہے جہاں یہ روح قیدکردی جاتی ہے،اس قید کے باوجود اس کاتعلق اپنےجسم کے اجزائے اصلیہ سے رہتاہے،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بعض کفار جلادیئے جاتے ہیں ان کی قبر کہاں۔

1628 -[13]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَكَانِ يُصْعِدَانِهَا» . قَالَ حَمَّادٌ: فَذَكَرَ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا وَذَكَرَ الْمِسْكَ قَالَ: " وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ: رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى جَسَدٍ كُنْتِ تُعَمِّرِينَهُ فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَى رَبِّهِ ثُمَّ يَقُولُ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ ". قَالَ: «وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ» قَالَ حَمَّادٌ: وَذَكَرَ من نتنها وَذكر لعنها. " وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ: رُوحٌ خَبِيثَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ فَيُقَالُ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَل " قَالَ أَبُو هُرَيْرَة: فَرد رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم ريطة كَانَت عَلَيْهِ على أَنفه هَكَذَا. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہی سےکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب مسلمان کی روح نکلتی ہے تو اسے دو فرشتے ملتے ہیں جو اسے چڑھا لے جاتےہیں ۱؎ حماد نے کہاحضور نے اس کی عمدہ خوشبو کا اورمشک کا ذکر فرمایا ہے۲؎ فرمایا کہ آسمان والے کہتے ہیں پاک روح زمین کی طرف سے آئی اﷲ تجھ پر اور اس جسم پر رحمتیں کرے جسے تو آبادکرتی تھی۳؎ پھر اسے رب کے پاس لے جاتےہیں رب فرماتا ہے کہ اسے آخر وقت تک کے لیئے وہیں پہنچادو۴؎ فرمایا کہ جب کافر کی روح نکلتی ہے حماد فرماتے ہیں کہ حضور نے اس کی بدبو اورلعنت کا ذکر فرمایا آسمان والے کہتے ہیں خبیث روح ہے جو زمین کی طرف سے آئی تو کہاجاتاہے اسے معیاد تک کے لیئے لےجاؤ،ابوہریرہ فرماتےہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پرچادرتھی اسے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح اپنی ناک سے لگالیا ۵؎ (مسلم)

 



Total Pages: 519

Go To