Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1627 -[12]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَيِّتُ تَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَالِحًا قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ اخْرُجِي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَلَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيُفْتَحَ لَهَا فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: فُلَانٌ فَيُقَالُ: مَرْحَبًا بِالنَّفسِ الطّيبَة كَانَت فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ ادْخُلِي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَلَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللَّهُ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السُّوءُ قَالَ: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ اخْرُجِي ذَمِيمَةً وَأَبْشِرِي بِحَمِيمٍ وَغَسَّاقٍ وَآخَرَ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ فَمَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيُفْتَحُ لَهَا فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانٌ فَيُقَالُ: لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ ارْجِعِي ذَمِيمَةً فَإِنَّهَا لَا تفتح لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَتُرْسَلُ مِنَ السَّمَاءِ ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى الْقَبْر ". رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میت کے پاس فرشتے آتے ہیں ۱؎ اگر آدمی نیک ہوتاہے تو اس سے کہتے ہیں اے پاک روح نکل جو پاک جسم میں تھی ۲؎ نکل قابلِ تعریف خیریت،راحت اور پاک رزق اور راضی رب کی بشارت حاصل کر اس سے یہ کہتے رہتے ہیں حتی کہ نکل آتی ہے۳؎ پھر اس کو آسمان کی طرف چڑھایاجاتاہے اس کے لیئے آسمان کھولاجاتاہے کہاجاتاہے یہ کون ہے فرشتے کہتے ہیں یہ فلاں ہے تو کہاجاتاہےکہ خوب آئی پاک روح جو پاک جسم میں تھی داخل ہوقابلِ تعریف ہے اور خیریت،راحت،پاک رزق اور راضی رب کی بشارت لے اس سے یہ کہتے رہتے ہیں حتی کہ اس آسمان تک پہنچتی ہے جس میں اﷲ کی تجلی ہے۴؎ اور جب آدمی برا ہوتاہے ۵؎ تو کہتے ہیں کہ اے خبیث جان نکل جوخبیث جسم میں تھی ۶؎ نکل قابلِ ملامت ہوکر اورکھولتے پانی پیپ اور اس کے ہمشکل دوسرے عذابوں کی بشارت لے۷؎ اس سے یہ کہتے رہتے ہیں حتی کہ نکل آتی ہےپھر اسے آسمان کی طرف چڑھایاجاتاہے تو اس کے لیئے آسمان کھلوایاجاتاہے پوچھاجاتا ہے یہ کون ہے کہاجاتاہے فلاں تو کہاجاتاہے اس کے لیئے مرحبا نہیں،خبیث جان ہے جو خبیث جسم میں تھی ملامت کی ہوئی لوٹ جاکیونکہ تیرے لیئے آسمان کے دروازے نہیں کھل سکتے۸؎ پھر اسے آسمان سے پھینکاجاتاہےحتی کہ قبرمیں آجاتی ہے۹؎(ابن ماجہ)

۱؎ یعنی ملک الموت اور انکے ساتھی مؤمن کے پاس رحمت کے فرشتے استقبال کے لیے اور کافر کے پاس عذاب کے فرشتے گرفتاری کے لیے ان کے علاوہ ہوتے ہیں۔

۲؎ نفس اور روح میں فرق اعتباری ہے مظہرشرکو نفس کہتے ہیں"اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ"اورمظہرخیرکو روح"قُلِ الرُّوۡحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیۡ"۔یہاں طیبہ کی صفت سےنفس میں خوبی کےمعنی پیداہوگئے۔(مرقات)ظاہر یہ ہے کہ نفس طیب سے اچھے عقائد کی طرف اورجسم طیب سے اچھے اعمال کی طرف اشارہ ہے یعنی تیرے عقائدبھی اچھے اور اعمال بھی صالح۔

۳؎ معلوم ہوا کہ مؤمن صالح کی روح کھینچ کرنکالنے کی ضرورت نہیں پڑتی وہ بشارتیں سن کر خودبخود ہی خوش ہوتی نکل آتی ہے۔

ع                    یار خنداں رود بجانب یار

 



Total Pages: 519

Go To