$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1625 -[10]

وَعَنْ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَالَ:«إِنِّي لَا أَرَى طَلْحَةَ إِلَّا قَدْ حَدَثَ بِهِ الْمَوْتُ فَآذِنُونِي بِهِ وَعَجِّلُوا فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِجِيفَةِ مُسْلِمٍ أَنْ تُحْبَسَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَهْلِهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت حصین ابن وحوح سے طلحہ بن براء بیمار ہوئے ۱؎ تو انکے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لئے تشریف لائے پھر فرمایا میرا گمان ہے کہ طلحہ کی وفات آہی گئی ہے مجھے اس کی خبردینا اورجلدی کرنا کیونکہ مسلمان میت کا اپنے گھر والوں میں رکا رہنا مناسب نہیں ۲؎(ابوداؤد)

۱؎ حصین ابن وحوح صحابی ہیں،انصاری ہیں،آپ سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے۔

۲؎  اس سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ میت کے لیے اعلان عام کرنا بھی جائز ہے اور خاص بزرگ و اہل قرابت کو خبرکرنابھی تاکہ وہ نماز اور دفن میں شرکت کرلیں۔دوسرے یہ کہ حتی الامکان دفن میں جلدی کی جائے،بلاضرورت دیر لگاناجیسا کہ ہمارے پنجاب میں رواج ہے سخت ناجائزہے کہ اس میں میت کے پھولنے پھٹنے اور اسکی بےحرمتی کا اندیشہ ہے، مگر اس حکم سے انبیاءکرام مستثنٰی ہیں۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا دفن شریف وفات سے تین دن بعدہوا،مسئلہ خلافت پہلے طے کیا گیا تاکہ زمین خلیفۃ اﷲ سے خالی نہ رہے،بلکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا دفن وفات سے چھ ماہ یا ایک سال بعد ہوا۔ (قرآن شریف)خیال رہے کہ یہاں حیفہ بمعنی مردہ ہے نہ کہ مردار جیسے قرآن کریم میں ہے"کَیۡفَ یُوٰرِیۡ سَوْءَۃَ اَخِیۡہِ"لہذا اس لفظ سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مردہ نجس ہوتا ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1626 -[11]

وَعَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ لِلْأَحْيَاءِ؟ قَالَ: «أَجود وأجود» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن جعفر سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اپنے مُردوں کو یہ تلقین کرو اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں،حلم والا ہے،کرم والاہے، پاک ہے،عرش عظیم کا رب ہے،ساری حمد اﷲ رب العلمین کی ہے ۲؎ لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ یہ دعا زندوں کے لیےکیسی فرمایا بہت اچھی اچھی۳؎(ابن ماجہ)

۱؎ آپ عبداﷲ ابن جعفر ابن ابی طالب قرشی ہاشمی علی مرتضٰی کے بھائی ہیں،حبشہ میں پیدا ہوئے،اسلام میں سب سے پہلے آپ کی پیدائش ہوئی،بہت سخی،خوش خلق اورحلیم تھے،آپ کا لقب بحرالجود تھا،والدہ کانام اسماءبنت عمیس ہے،۹۰ سال عمرہوئی،  ۸۰ھ؁ میں مدینہ طیبہ میں وفات پائی۔

۲؎ اس کی شرح پہلےگزر چکی کہ جو مررہا ہو اس کے پاس بھی یہ پڑھو اورمرچکنے کے بعدقبر پربھی۔

۳؎ یعنی زندے بھی بطور وظیفہ پڑھا کریں بہت ثواب پائیں گے۔

1627 -[12]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَيِّتُ تَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَالِحًا قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ اخْرُجِي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَلَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيُفْتَحَ لَهَا فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: فُلَانٌ فَيُقَالُ: مَرْحَبًا بِالنَّفسِ الطّيبَة كَانَت فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ ادْخُلِي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَلَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللَّهُ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السُّوءُ قَالَ: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ اخْرُجِي ذَمِيمَةً وَأَبْشِرِي بِحَمِيمٍ وَغَسَّاقٍ وَآخَرَ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ فَمَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيُفْتَحُ لَهَا فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانٌ فَيُقَالُ: لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ ارْجِعِي ذَمِيمَةً فَإِنَّهَا لَا تفتح لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَتُرْسَلُ مِنَ السَّمَاءِ ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى الْقَبْر ". رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میت کے پاس فرشتے آتے ہیں ۱؎ اگر آدمی نیک ہوتاہے تو اس سے کہتے ہیں اے پاک روح نکل جو پاک جسم میں تھی ۲؎ نکل قابلِ تعریف خیریت،راحت اور پاک رزق اور راضی رب کی بشارت حاصل کر اس سے یہ کہتے رہتے ہیں حتی کہ نکل آتی ہے۳؎ پھر اس کو آسمان کی طرف چڑھایاجاتاہے اس کے لیئے آسمان کھولاجاتاہے کہاجاتاہے یہ کون ہے فرشتے کہتے ہیں یہ فلاں ہے تو کہاجاتاہےکہ خوب آئی پاک روح جو پاک جسم میں تھی داخل ہوقابلِ تعریف ہے اور خیریت،راحت،پاک رزق اور راضی رب کی بشارت لے اس سے یہ کہتے رہتے ہیں حتی کہ اس آسمان تک پہنچتی ہے جس میں اﷲ کی تجلی ہے۴؎ اور جب آدمی برا ہوتاہے ۵؎ تو کہتے ہیں کہ اے خبیث جان نکل جوخبیث جسم میں تھی ۶؎ نکل قابلِ ملامت ہوکر اورکھولتے پانی پیپ اور اس کے ہمشکل دوسرے عذابوں کی بشارت لے۷؎ اس سے یہ کہتے رہتے ہیں حتی کہ نکل آتی ہےپھر اسے آسمان کی طرف چڑھایاجاتاہے تو اس کے لیئے آسمان کھلوایاجاتاہے پوچھاجاتا ہے یہ کون ہے کہاجاتاہے فلاں تو کہاجاتاہے اس کے لیئے مرحبا نہیں،خبیث جان ہے جو خبیث جسم میں تھی ملامت کی ہوئی لوٹ جاکیونکہ تیرے لیئے آسمان کے دروازے نہیں کھل سکتے۸؎ پھر اسے آسمان سے پھینکاجاتاہےحتی کہ قبرمیں آجاتی ہے۹؎(ابن ماجہ)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html