Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1619 -[4]

وَعَن أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أبي سَلمَة قد شَقَّ بَصَرَهُ فَأَغْمَضَهُ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ» فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ فَقَالَ: «لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَير فَإِن الْمَلَائِكَة يُؤمنُونَ على ماتقولون» ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ وَأَفْسِحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ابو سلمہ پر تشریف لائے ان کی آنکھیں کھلی رہ گئیں تھیں،انہیں بند کردیا،پھر فرمایا کہ روح جب قبض کرلی جاتی ہے تو نظر اس کے پیچھے جاتی ہے ۱؎ ان کے گھر کے لوگوں نے آہ وبکاکی تو حضور نے فرمایا اپنے متعلق خیر ہی کی دعا کرنا کیونکہ فرشتے تمہارے کہے پر آمین کہتے ہیں۲؎ پھر فرمایاالٰہی  ابوسلمہ کو بخش دے اور ہدایت والوں میں ان کا درجہ بلندکر ان کے پسماندگان میں ان کا تو خلیفہ ہو اور اے رب العلمین ہماری اور ان کی مغفرت فرما اور ان کی قبر میں روشنی اور وسعت دے۳؎(مسلم)

۱؎ یعنی روح کے ساتھ نور نگاہ بھی نکل جاتی ہے اس لیے کبھی مرنے والے کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں،آنکھیں کھلی رہنے سے فائدہ کچھ ہوتا نہیں البتہ شکل ڈراؤنی ہوجاتی ہے اس لیے آنکھیں فورًا بند کردو بلکہ اگر منہ کھلا رہ گیا ہوتو اسے بھی بند کردیا جائے اور جبڑے باندھ دیئے جائیں۔

۲؎ اس سےمعلوم ہوا کہ میت پر بلند آواز سے رونا اور اچھی باتیں منہ سے نکالنا برا نہیں،ہاں پیٹنا اور بکواس کرنا برا ہے بلکہ کبھی کفر جیسے ہائے پہاڑ گر گیا ہائے کمر ٹوٹ گئی،ہائے موت نے یا اﷲ نے ظلم کردیا اَلْعَیَاذُبِاﷲ،یا اﷲ ہمیں بھی موت دے دے وغیرہ۔

۳؎  سبحان اﷲ! کیا پاکیزہ اور جامع دعا ہے،میت کے پسماندگان اپنے اور سارے مسلمانوں کے لیے ہرطرح کی دعا مانگ لی گئی۔

1620 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ سجي بِبرد حبرَة

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کو حبری چادر اوڑھائی گئی ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی اس چادر میں کفن دیا گیا،حبرہ یمن کا ایک شہر ہے جہاں کی چادریں مخطط اوربہترین ہوتی ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ میت کو حتی الامکان بہتر کفن دیا جائے،بلکہ زندگی میں جو کپڑا اسے پسندتھا اسی میں کفن دینا بہتر،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو برد یمانی نہایت پسند تھی۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1621 -[6]

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ» رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کا آخری کلام"لا الہ الا اﷲ"ہوگا وہ جنت میں جائے گا ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی اگرچہ عمربھرکلمہ پڑھتا رہا،لیکن مرتے وقت کلمہ ضرور پڑھناچاہیے کہ اس کی برکت سے بخشش ہوگی،مرنے والے کو کلمہ پڑھانا اسی حدیث پرعمل ہے،روایت میں تو یہ بھی آیا ہے کہ کلمہ پڑھ کر سوؤ،یہ حدیث کتاب الایمان کی اس حدیث کی شرح ہے کہ جس نے"لا الہ الا اﷲ"کہہ لیا جنتی ہوگیا،اسی معنی پر حدیث میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں،بعض روایات



Total Pages: 519

Go To