$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب ما یقال عند من حضرہ الموت

جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ یعنی علامات موت جب نمودار ہوں اس وقت جومرچکا ہو اس کے پاس کیا دعائیں،تلقین اورکیا الفاظ ادا کیے جائیں لہذا حضر کے معنے ہیں موت آرہی ہو یاموت آگئی ہو۔خیال رہے کہ بیمار کی کنپٹی دھنس جانا،ناک ٹیڑھی پڑجانا،پاؤں بے جان ہوجانا کہ اگر کھڑے کیے جائیں تو کھڑے نہ رہ سکیں بلکہ گر جائیں،فوطوں کی کھال دراز ہوجانا،فوطے سکڑ جانا علامات موت ہیں۔

1616 -[1]

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت ابوسعید و ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مُردوں کو"لا الہ الا اﷲ"سکھاؤ ۱؎(مسلم)

۱؎ یہ حکم استحبابی ہے،یہی جمہور علماء کا مذہب ہے،بعض مالکیوں کے ہاں وجوبی ہے۔موتےٰ کے حقیقی معنے ہیں جومرچکا ہو،مجازًا قریب الموت کو موتےٰ کہہ دیتے ہیں یعنی جو مررہا ہو اسے کلمہ سکھاؤ اس طرح کہ اس کے پاس بلند آواز سے کلمہ پڑھو اس کا حکم نہ دو کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ جس کا آخری کلام"لا الہ الاﷲ"ہو وہ جنتی ہے۔خیال رہے کہ اگر مؤمن بوقت موت کلمہ نہ پڑھ سکے جیسے بے ہوش یا شہید وغیرہ تو وہ ایمان پر ہی مرا کہ زندگی میں مؤمن تھا لہذا اب بھی مؤمن بلکہ اگر نزع کی غشی میں اس کے منہ سے کلمۂ کفرسنا جائے تب بھی وہ مؤمن ہی ہوگا اس کا کفن دفن،نماز سب کچھ ہوگی کیونکہ غشی کی حالت کا ارتدادمعتبرنہیں۔(ازشامی)اس سےمعلوم ہوا کہ مرتے وقت کلمہ پڑھانا اس حدیث مذکورہ پرعمل کے لیے ہے نہ کہ اسے مسلمان بنانے کے لیئے،مسلمان تو وہ پہلے ہی ہے یا مطلب یہ ہے کہ میت کو بعد دفن کلمہ کی تلقین کرو کہ قبرپر کلمہ پڑھو یا قبر کے سرہانے اذان کہہ دو کیونکہ یہ وقت امتحان قبر کا ہے،اذان میں نکیرین کے سارے سوالات کے جوابات کی تلقین بھی ہے اور اس سے میت کے دل کو تسکین بھی ہوگی اور شیاطین کا دفعیہ بھی ہوگا اور اگر قبر میں آگ ہے توا س کی برکت سے بجھے گی اسی لیے پیدائش کے وقت بچے کے کان میں دل کی گھبراہٹ،آگ لگنے،جنات کے غلبے وغیرہ پر اذان سنت ہے،یہ دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں۔شامی نے یہ ہی معنے اختیار کیے کیونکہ حقیقتًا موتے وہی ہے جو مرچکا ہو مگر زیادہ قوی یہ ہے کہ عموم مجاز کے طریقہ پر دونوں معنے ہی مراد لیے جائیں،یعنی جو مررہا ہو اور جو مرچکا ہو دونوں کوتلقین کرو،ہمارے ہاں بعد دفن قبر پر اذان دی جاتی ہے،اس کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے۔اس مسئلے کی پوری تحقیق ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ اول میں دیکھو۔

1617 -[2]

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِيضَ أَو الْمَيِّت فَقولُوا خيرا فَإِن الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم بیمار یا میت کے پاس جاؤ تو اچھی بات بولو ۱؎ کیونکہ فرشتے تمہارے کہے پر آمین کہتے ہیں۲؎ (مسلم)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html