$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

861 -[40]

وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابه فَقَرَأَ عَلَيْهِم سُورَةَ الرَّحْمَنِ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا فَسَكَتُوا فَقَالَ: «لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَى الْجِنِّ لَيْلَةَ الْجِنِّ فَكَانُوا أَحْسَنَ مَرْدُودًا مِنْكُمْ كُنْتُ كُلَّمَا أَتَيْتُ على قَوْله (فَبِأَي آلَاء رَبكُمَا تُكَذِّبَانِ)قَالُوا لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْدُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جماعت صحابہ میں تشریف لائے تو ان کے سامنے اول سے آخر تک سورہ ٔالرحمٰن پڑھی ۱؎ صحابہ خاموش رہے ۲؎ تو حضور نے فرمایا کہ میں نے یہ سورت شب جن میں۳؎ جنات پر پڑھی تو وہ تم سے اچھے جواب دینے والے تھے میں جب اس قول پر پہنچا "فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ"تو کہتے نہیں اے مولا ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے تیرے ہی لیے تعریف ہے ۴؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎ یعنی نماز کے علاوہ۔اس سے معلوم ہوا کہ دوستوں سے ملاقات کے وقت قرآن شریف پڑھنا اور سننا سنت ہے،عرب شریف میں اب بھی یہ دستور ہے۔

۲؎کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ تلاوت قرآن کے وقت خاموشی فرض ہے،قرآن کی یہ آیت ان کے سامنے تھی "وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ" الخ۔

۳؎ جب کہ جنات وفد کی شکل میں ایمان لانے کے لیے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔یہ واقعہ کئی بار ہوا ہے ان میں سے کسی ایک رات میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سورۂ رحمان سنائی۔

۴؎ یعنی جب حضورصلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت پڑھ کر خاموش ہوتے تب وہ یہ عرض کرتے نہ کہ عین تلاوت کی حالت میں،لہذا ان کا یہ عمل حکم قرآنی کے خلاف نہ تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآن سنتے وقت رونا،جھومنا اورکچھ پیارے کلمات کہنا جو مضمون آیت کے مطابق ہوں بہت بہتر ہے مگر یہ سب کچھ قاری کی خاموشی کی حالت میں ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

862 -[41]

عَن معَاذ بن عبد الله الْجُهَنِيّ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَرَأَ فِي الصُّبْح (إِذا زلزلت)فِي الرَّكْعَتَيْنِ كلتهما فَلَا أَدْرِي أَنَسِيَ أَمْ قَرَأَ ذَلِكَ عَمْدًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت معاذ بن عبداﷲ جہنی سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ جہنیہ کے ایک آدمی نے انہیں خبر دی ۲؎ کہ انہوں نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فجر کی دونوں رکعتوں میں "اِذَا زُلْزِلَتِ"پڑھی ۳؎ یہ مجھے خبرنہیں آیا بھول گئے یا عمدًا پڑھی۔(ابوداؤد)

۱؎ آپ تابعی ہیں،مدنی ہیں،   ۱۱۸ھ ؁ میں وفات پائی، بہت ثقہ اور عالم تھے۔

۲؎ ان کا نام معلوم نہ ہوسکا مگر چونکہ تمام صحابہ عادل ہیں اس لیے صحابی کا نام معلوم نہ ہونا حدیث کو ضعیف یا مجہول نہیں کرتا۔

۳؎ ظاہر یہ ہے کہ اس سے فجر کے فرض مراد ہیں اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل شریف بیان جواز کے لیے ہے،اگرچہ افضل یہ ہے کہ فجر میں طوال مفصل میں سے کوئی سورت پڑھی جائے،نیز فرائض میں کوئی سورت مکرّر نہ ہو مگر چونکہ اس کے خلاف بھی جائز ہے اس لیے حضور نے یہ عمل کیا،غالب یہ ہے کہ آپ کا یہ عمل شریف عمدًا تھا۔

863 -[42]

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى الصُّبْحَ فَقَرَأَ فِيهِمَا (سُورَةِ الْبَقَرَةِ)فِي الرَّكْعَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا. رَوَاهُ مَالك

روایت ہے حضرت عروہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فجر پڑھی تو دونوں رکعتوں میں سورۂ بقر پڑھی ۲؎(مالک)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html