Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

میں مؤمن کی حیات بہتر تھی اور سرکار کی وفات کے بعد اب موت بہتر ہے کہ اس زمانہ میں زندگی میں دیدارتھا اور اب بعدموت ہی ہوگا۔(لمعات)شعر

جان تو جاتے ہی جائے گی قیامت یہ ہے                   کہ یہاں مرنے پر ٹھہرا ہے نظارہ تیرا

۳؎ یعنی اگر دوزخ کے لیئے پیدا کئے گئے ہو تو موت مانگنے میں کوئی فائدہ نہیں اور اگر جنت کے لیئے تمہاری پیدائش ہوئی تو موت مانگنا تمہارے لیئے مضرکیونکہ لمبی عمر میں زیادہ نیکیاں کرو گے جس سے جنت میں تمہارے درجے بڑھیں گے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اگر فرمانا بے علمی کی بناء پر نہیں،حضرت سعدعشرہ مبشرہ میں سے ہیں جن کے قطعی جنتی ہونے کی خبر خود سرکار دے چکے ہیں،ان کا جنتی ہونا ایسا ہی قطعی و یقینی ہےجیسا اﷲ کا ایک ہونا۔یہ اِنْ علت بیان کرنے کے لیئے ہے،جیسے رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَاَنۡتُمُ الۡاَعْلَوْنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ"۔نہ صحابہ کا ایمان مشکوک،نہ خدا ان کے ایمان سے بےخبر،معنے یہ ہیں کہ چونکہ تم جنت کے لیئے پیدا کیے جاچکے ہو لہذا تمہاری درازی عمربہتر۔(ازمرقات)

1615 -[18]  

عَن حَارِثَةَ بْنِ مُضَرَّبٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى خَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعًا فَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «لَا يَتَمَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ» -[507]- لَتَمَنَّيْتُهُ. وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَمْلِكُ دِرْهَمًا وَإِنَّ فِي جَانِبِ بَيْتِيَ الْآنَ لَأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ ثُمَّ أُتِيَ بِكَفَنِهِ فَلَمَّا رَآهُ بَكَى وَقَالَ لَكِنَّ حَمْزَةَ لَمْ يُوجَدْ لَهُ كَفَنٌ إِلَّا بُرْدَةٌ مَلْحَاءُ إِذَا جُعِلَتْ عَلَى رَأْسِهِ قَلَصَتْ عَنْ قَدَمَيْهِ وَإِذَا جُعِلَتْ عَلَى قَدَمَيْهِ قَلَصَتْ عَنْ رَأْسِهِ حَتَّى مُدَّتْ عَلَى رَأْسِهِ وَجُعِلَ عَلَى قَدَمَيْهِ الْإِذْخِرُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يذكر: ثمَّ أُتِي بكفنه إِلَى آخِره

 

روایت ہے حضرت حارثہ ابن مضرب سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت خباب کے پاس گیا ۱؎ جنہیں سات داغ دیئے گئے تھے فرمایا اگر میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا نہ ہوتا کہ تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے تو میں اس کی آرزو کرتا ۲؎ میں نے اپنے کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس حال میں دیکھا ہے کہ میں ایک درہم کا مالک نہ تھا اور آج میرے گھر کے کونے میں چالیس ہزار درہم پڑے ہیں۳؎ فرماتے ہیں پھر ان کا کفن لایا گیا اسے دیکھا تو روئے۴؎ اور بولے کہ جناب حمزہ کو کفن بھی نہ ملا سوا اس دھاری دار چادر کے جو اگر ان کے سر پر ڈالی جاتی تو قدموں سے کھل جاتی اور قدموں پر ڈالی جاتی تو سر سے کھل جاتی حتی کہ ان کے سر پر چادر ڈالی گئی اور قدموں پر گھاس ۵؎(احمد،ترمذی)لیکن ترمذی نے کفن لانے سے آخر تک واقعہ بیان نہ کیا۔

۱؎ حارثہ عبدی ہیں،کوفی ہیں،مشہور تابعی ہیں،حضرت علی،ابن مسعود وغیرہم سے ملاقات ہے اور حضرت خباب ابن ارت تمیمی ہیں،مشہورصحابی ہیں،    ۶ھ؁ میں ہی ایمان لائے،کافروں کے ہاتھوں بہت ایذاءپائی،بدر اور تمام غزوات میں شریک رہے، ۳۷ھ؁ میں وفات ہوئی،حضرت علی مرتضٰی نے نماز جنازہ پڑھائی،کوفہ میں مزار ہے،ایک بار حضرت علی آپ کی قبر پر گئے تو فرمایا اے



Total Pages: 519

Go To