Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ اس حدیث کی بہت شرحیں ہیں۔ظاہری شرح یہ ہے کہ مرتے وقت اس کی پیشانی پر پسینہ آجاتا ہے اگرچہ سردی کا موسم ہو، گویا یہ پسینہ اچھے خاتمے کی علامت ہے یعنی اسے جانکنی کی شدت زیادہ ہوتی ہے تاکہ سارے گناہ معاف ہوجائیں اور درجے بلند ہوجائیں،بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا کہ مؤمن مرتے وقت تک نیکیوں میں محنت کرتا ہے وغیرہ۔(لمعات)

1611 -[14]

وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَوْتُ الْفُجَاءَة أَخْذَةُ الْأَسَفِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَزَادَ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ وَرَزِينٌ فِي كِتَابِهِ: «أَخْذَةُ الأسف للْكَافِرِ وَرَحْمَة لِلْمُؤمنِ»

روایت ہے حضرت عبیداﷲ ابن خالد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناگہانی موت غضب کی پکڑ ہے ۱؎(ابوداؤد)اوربیہقی نے شعب الایمان میں اور رزین نے اپنی کتاب میں یہ بڑھایا کہ کافر کے لیئے غضب کی پکڑہے اور مؤمن کے لیئے رحمت۔

۱؎ یعنی ہارٹ فیل کی موت غضب رب کی علامت ہےکیونکہ اس میں بندے کوتوبہ،نیک عمل،اچھی وصیت کا موقعہ نہیں ملتا مگر یہ کافر کے لیے ہے،مؤمن کے لیے یہ بھی نعمت ہے جیساکہ آئندہ آرہا ہےکیونکہ مؤمن کسی وقت رب سے غافل رہتا ہی نہیں،دیکھو حضرت سلیمان ویعقوب علیہما السلام کی وفات اچانک ہی ہوئی،حضورصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اچانک موت مؤمن کے لیئے راحت ہے اور کافر کے لیئے پکڑ۔(لمعات ومرقات)کہ مؤمن اس موت میں بیماریوں کی مصیبت سے بچ جاتا ہے۔

1612 -[15]

وَعَن أنس قَالَ: دخل النَّبِي عَلَى شَابٍّ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَقَالَ: «كَيْفَ تجدك؟» قَالَ: أرجوالله يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنِّي أَخَافُ ذُنُوبِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَوْطِنِ إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا يَرْجُو وَآمَنَهُ مِمَّا يَخَافُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيث غَرِيب

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جوان کے پاس اس کی موت کی حالت میں تشریف لے گئے تو فرمایا کہ تو اپنےکو کیسا پاتاہے ۱؎ اس نے عرض کیا یارسول اﷲ میں اﷲ سے امیدکررہا ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈررہا ہوں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دوچیزیں بندے کے دل میں اس جیسی حالت میں جمع نہیں ہوتیں مگر اﷲ اسے اس کی امید دیتاہے اور ڈراؤنی چیزسے امن دیتاہے ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎ یعنی تیرے دل کا کیا حال ہے خوش ہے یا غمگین،مطمئن ہے یا پریشان،آس میں ہے کہ یاس میں،اسے ڈر ہے یا امید۔خیال رہے کہ امتی کی وفات کے وقت اب بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے ہیں،اسے کلمہ سکھاتے ہیں جیسا کہ باربار دیکھا گیا ہے۔

۲؎ یعنی بوقت موت مؤمن کا حال ڈوبتے ہوئے کی طرح چاہئیے جسے ایک موت نیچےکرتی ہے دوسری اوپر،گناہوں میں غورکرکے غیرت میں ڈوب جائے،رب کی رحمت میں سوچ کر تر جائے ایسے کو رب پکڑتا نہیں معافی دے دیتا ہے۔خیال رہے کہ مَوْطِن یاظرف مکان ہے یا زمان جیسے مقتلِ حسین یعنی امام حسین کی شہادت کی جگہ یا وقت،لفظ مثل زائد ہے یا مبالغہ کے لیئے۔

 



Total Pages: 519

Go To