Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1608 -[11]

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ لِأَصْحَابِهِ: «اسْتَحْيُوا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ» قَالُوا: إِنَّا نَسْتَحْيِي مِنَ اللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ قَالَ: «لَيْسَ ذَلِكَ وَلَكِنَّ مَنِ اسْتَحْيَى مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ فَلْيَحْفَظِ الرَّأْسَ وَمَا وَعَى وَلْيَحْفَظِ الْبَطْنَ وَمَا حَوَى وَلْيَذْكُرِ الْمَوْتُ وَالْبِلَى وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ تَرَكَ زِينَةَ الدُّنْيَا فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدِ اسْتَحْيَى مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ  وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

روایت ہےحضرت ابن مسعود کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ سے فرمایا اﷲ سے پوری حیاءکرو انہوں نے عرض کیا یا نبی اﷲ خدا کا شکر ہے کہ ہم اﷲ سے غیرت کرتے ہیں ۱؎ فرمایا یہ نہیں ہے لیکن جو اﷲ سے پوری غیرت کرے تو وہ سر اور اس میں محفوظ چیزوں اور پیٹ اور اس کے اندر کی چیزوں کی حفاظت کرے اور موت اور گل جانے کو یاد رکھے ۲؎ جو آخرت چاہتاہے وہ دنیا کی زنیت چھوڑ دیتا ہے۳؎ جس نے یہ کیا اس نے اﷲ سے پوری غیرت کی۔(احمد، ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے اس کلام میں خطاب صحابہ کرام سے ہے مگر مقصود ساری امت کو سنانا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ صحابہ کرام کو رب سے غیرت نہ تھی،رب تعالٰی اپنے حبیب سے فرماتا ہے:"یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللہَ"۔نیز صحابہ کرام کا یہ جواب نہ ریا کے لیئے ہے نہ شیخی کے لیئے بلکہ توفیق الٰہی  کے شکریہ کے طور پر،حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا حال کہنا ریا نہیں۔

۲؎ یعنی صرف ظاہری نیکیاں کرلینا اور زبان سے حیا کا اقرار کرنا پوری حیا نہیں بلکہ ظاہری اور باطنی اعضاء کو گناہوں سے بچاناحیاہے۔چنانچہ سرکو غیرخدا کے سجدے سے بچائے،اندرون دماغ کو ریا اورتکبرسے بچائے،زبان،آنکھ اور کان کو ناجائز بولنے،دیکھنے،سننے سے بچائے،یہ سر کی حفاظت ہوئی،پیٹ کو حرام کھانوں سے،شرمگاہ کو زنا سے،دل کو بری خواہشوں سےمحفوظ رکھےیہ پیٹ کی حفاظت ہے۔حق یہ ہے کہ یہ نعمتیں رب کی عطاءاور جناب مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخا سے نصیب ہوسکتی ہیں۔

۳؎ یعنی دنیا کی حرام زینتوں سے بچتاہے اور حلال زینتوں میں پھنستا نہیں۔خیال رہے کہ دنیا کی زینت وہ ہے جو دنیا کے لیئے کی جائے،لہذا عید کے دن اچھا لباس،جمعہ کا غسل و خوشبو،سرمہ وغیرہ روضۂ اقدس کی حاضری پر لباس فاخرہ پہننا سب دینی زینتیں ہیں،دنیا کی زینت اور ہے،دنیا میں زینت کچھ اور،پہلی بری ہے،دوسری اچھی۔دوسری کو رب نے زِینتُ اﷲ فرمایا کہ فرماتاہے:"قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللہِ الَّتِیۡۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ"اور فرماتا ہے:"خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمْ عِنۡدَ کُلِّ مَسْجِدٍ

1609 -[12]

وَعَن عبد الله بن عَمْرو قَالَ :قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُحْفَةُ الْمُؤْمِنِ الْمَوْتُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نےمسلمان کا تحفہ موت ہے ۱؎ (بیہقی شعب الایمان)

۱؎ یعنی موت مسلمان کو رب کا تحفہ ہے کیونکہ یہ رب سے ملنے اور جنت میں پہنچنے کا ذریعہ ہے مگر یہی موت کافر کے لیئے مصیبت ہے کیونکہ مسلمان کا محبوب رب ہے اور کافر کی محبوب دنیا،موت مؤمن کو محبوب سے ملاتی اور کافر کو اس کے محبوب سے چھڑاتی ہے۔

1610 -[13]

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مؤمن پیشانی کے پسینہ سے مرتاہے ۱؎(ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)

 



Total Pages: 519

Go To