Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1600 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ فَإِنْ كَانَ لابد فَاعِلًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لي "

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سےکوئی آئی ہوئی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمنا نہ کرے پھر اگر کرنا ہی پڑ جائے تو یوں کہے الٰہی  جب تک میرے لیئے زندگی بہتر ہو تو مجھے زندہ رکھ اور جب میرے لیئے موت بہتر ہو تو مجھے موت دے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یہ حدیث گزشتہ احادیث کی شرح ہے کہ بیماری و آزاری سےگھبراکرموت نہ مانگے اورجس طریقہ سے دعا کی اجازت دی گئی ہے نہایت ہی پیارا طریقہ ہےکیونکہ اس خیروشرمیں دین و دنیا کی خیروشرشامل ہےگویا موت کی تمنا کہہ بھی لی مگر قاعدے سے۔خیال رہے کہ یہ کہنا جائز ہے خدایا مجھے شہادت کی موت دے،خدایا مجھے مدینہ پاک میں موت نصیب کر۔چنانچہ عمر فاروق نے دعا کی تھی کی مولا مجھے اپنے حبیب کے شہرمیں شہادت نصیب کر،حضرت حفصہ نے عرض کیا کہ یہ کیسے ہوسکے گا تو آپ نے فرمایا ان شاءاﷲ ایسے ہی ہوگا۔چنانچہ مسجد نبوی محراب النبی نماز کی حالت میں مصلّائےمصطفی پر آپ رضی اللہ عنہ کو کافرمجوسی ابو لولو نے شہید کیا۔دعاءکیاتھی کمان سے نکلا ہوا تیر تھا کہ جو کہا تھا وہی ہوا،کیوں نہ ہو رب کی یہ مانتے ہیں رب ان کی مانتاہے۔

1601 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ: إِنَّا لَنَكْرَهُ الْمَوْتَ قَالَ: «لَيْسَ ذَلِكَ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانِ اللَّهِ وَكَرَامَتِهِ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ فَأَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا حضر بشر بِعَذَاب الله وعقوبته فَلَيْسَ شَيْء أكره إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ فَكَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ الله لقاءه»

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اﷲ سے ملنا چاہتاہے اﷲ اس سے ملنا چاہتاہے اور جو اﷲ سے ملنا نہیں چاہتا اﷲ اس سے ملنا نہیں چاہتا اﷲ اس سے ملنےکو ناپسند کرتاہے ۱؎ تب حضرت عائشہ یاحضور کی بعض بیویوں نے کہا کہ ہم تو موت سے گھبراتی ہیں۲؎ تو فرمایا کہ یہ مطلب نہیں لیکن جب مؤمن کو موت آتی ہے تو اسے اﷲ کی رضا اور اسکے احترام کی بشارت دی جاتی ہے تب اسے کوئی چیز اگلے جہان سے پیاری نہیں ہوتی اس پر وہ اﷲ سے ملنا چاہتاہے اﷲ اس سے ملنا چاہتا ہے۳؎ اور کافرکو جب موت حاضرہوتی ہے تو اسے اﷲ کے عذاب و سزا کی خبردی جاتی ہے تب اسے اگلے جہان سے زیادہ کوئی شے ناپسند نہیں ہوتی لہذا وہ اﷲ سے ملنا ناپسندکرتا ہے اور اﷲ اس سے ملنا ۴؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یہاں اﷲ کو ملنے سے مرادموت ہے کیونکہ موت ہی خدا سے ملنے کا ذریعہ ہے یعنی منہ سے موت مانگنا منع مگر اسے پسند کرنا اچھا۔پسند کرنے کے یہ معنی ہیں کہ دنیا میں دل نہ لگائے اور آخرت کی تیاری کرے،ایسے بندے کو رب پسند کرتاہے، اس کی زندگی بھی خداکو پیاری ہے اور موت بھی،ہر ایک کی زندگی،موت خدا کے ارادے سے ہی ہے مگر اس کی زندگی اور موت رب کے ارادے سے بھی ہے اور اس کی رضا سے بھی،ارادے اور رضا میں بڑا فرق ہے۔

۲؎ جان کنی کی شدت اور اس کی سختیوں کی وجہ سے،نہ اس لیئے کہ دنیا ہمیں پیاری ہے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج خصوصًا حضرت عائشہ صدیقہ نے دنیا کی لذتیں دیکھی ہی کہاں،فقروفاقہ میں نہایت سادہ زندگی گزاری،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد



Total Pages: 519

Go To