Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

859 -[38]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا قَرَأَ (سبح اسْم رَبك الْأَعْلَى)

قَالَ: (سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى)رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب "سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی" پڑھتے تو فرماتے سبحان ربی الاعلیٰ ۱؎(احمد،ابوداؤد)

۱؎ یعنی فورًا اس آیت پرعمل بھی کرلیتے۔ظاہر یہ ہے کہ قرأت سے مراد نماز کے علاوہ میں تلاوت ہے ورنہ نماز میں "سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلےٰ" صرف سجدہ میں پڑھا جاتا ہے،امام مالک کے ہاں نوافل میں یہ کہہ سکتے ہیں،امام شافعی کے ہاں نوافل،فرائض سب میں۔

860 -[39]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " من قَرَأَ مِنْكُم ب (التِّين وَالزَّيْتُون)فَانْتهى إِلَى (أَلَيْسَ الله بِأَحْكَم الْحَاكِمين) فَلْيَقُلْ: بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ. وَمن قَرَأَ: (لَا أقسم بِيَوْم الْقِيَامَة)فَانْتَهَى إِلَى (أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يحيي الْمَوْتَى)فَلْيَقُلْ بَلَى. وَمَنْ قَرَأَ (وَالْمُرْسَلَاتِ) فَبَلَغَ: (فَبِأَيِّ حَدِيث بعده يُؤمنُونَ)فَلْيَقُلْ: آمَنَّا بِاللَّهِ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ إِلَى قَوْلِهِ: (وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ)

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے جو کوئی"وَالتِّیۡنِ وَ الزَّیۡتُوۡنِ" پڑھے ۱؎ اور"اَلَیۡسَ اللہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیۡنَ" پر پہنچے تو کہہ لے ہاں میں اس پر گوا ہوں میں سے ہوں ۲؎ اور جو "لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ" پڑھے اور"اَلَیۡسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنۡ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰی"پر پہنچے تو کہہ لے کہ ہاں ۳؎ اور جو "وَ الْمُرْسَلٰتِ"پڑھے اور "فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍۭ بَعْدَہٗ یُؤْمِنُوۡنَ" پر پہنچے تو کہہ لے ہم اﷲپر ایمان لائے ۴؎ (ابوداؤد)اور ترمذی کی روایت اس قول تک ہی ہے کہ میں اس پر گواہوں سے ہوں۔

۱؎ پوری یا بعض اور پڑھنے سے خارج نماز پڑھنا مراد ہے جیسا کہ عبارت سے ظاہر ہے۔

۲؎ یعنی جن انبیاء و اولیاء اور مقبولینِ بارگاہ نے اس پر گواہی دی ہے میں بھی ان کے زمرے میں شامل ہوں ان کے طفیل میری گواہی بھی قبول فرمالے۔

۳؎یعنی ہاں رب مُردے زندہ کرنے پر قادر ہے۔بَلیٰ میں نفی کا اثبات نہیں بلکہ منفی کا ثبوت ہوتا ہے۔

۴؎ یہ حدیث تلاوت قرآن کے باب میں لانی چاہیے تھی مگر چونکہ مؤلف شافعی ہیں جن کے ہاں نمازکی حالت میں بھی یہ الفاظ کہنے چاہیں اس لیے یہ حدیث قرأت نماز میں لائے۔احناف کے نزدیک بھی نفل نماز میں یہ کہا جاسکتا ہے۔چنانچہ حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد میں جب رحمت کی آیت تلاوت کرتے تو رب سے رحمت مانگتے اور جب آیت عذاب پر پہنچتے تو رب کی پناہ مانگتے پھر آگے بڑھتے۔

861 -[40]

وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابه فَقَرَأَ عَلَيْهِم سُورَةَ الرَّحْمَنِ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا فَسَكَتُوا فَقَالَ: «لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَى الْجِنِّ لَيْلَةَ الْجِنِّ فَكَانُوا أَحْسَنَ مَرْدُودًا مِنْكُمْ كُنْتُ كُلَّمَا أَتَيْتُ على قَوْله (فَبِأَي آلَاء رَبكُمَا تُكَذِّبَانِ)قَالُوا لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْدُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جماعت صحابہ میں تشریف لائے تو ان کے سامنے اول سے آخر تک سورہ ٔالرحمٰن پڑھی ۱؎ صحابہ خاموش رہے ۲؎ تو حضور نے فرمایا کہ میں نے یہ سورت شب جن میں۳؎ جنات پر پڑھی تو وہ تم سے اچھے جواب دینے والے تھے میں جب اس قول پر پہنچا "فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ"تو کہتے نہیں اے مولا ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے تیرے ہی لیے تعریف ہے ۴؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

 



Total Pages: 519

Go To