Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1595 -[73]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ مَرِيضًا مَاتَ شَهِيدًا أَوْ وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَغُدِيَ وَرِيحَ عَلَيْهِ بِرِزْقِهِ مِنَ الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو بیمار ہوکر مرا وہ شہید ہوکر مرا اور عذاب قبر سے بچایا گیا اورصبح و شام اس پر جنت کا رز ق پیش ہوتا رہے گا ۱؎(ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان)

۱؎ بعض علماء نے فرمایا کہ یہاں مریض سے پیٹ کا بیمارمراد ہے جیساکہ دوسری روایتوں میں گزرچکا،بعض نے فرمایاکہ اصل میں یہاں مرابطًا تھا راوی نے غلطی سے مریضًا کہہ دیا یعنی جوتیاریٔ جہادکرتا فوت ہو وہ شہید ہے،بعض نے فرمایا یہاں غریبًا تھا۔مگر حق یہ ہے کہ یہاں مریضًا ہی ہے اورحدیث اپنےعموم پر ہے،رب دے تو ہم کیوں قید لگائیں۔جومسلمان کسی بیماری میں مرے ان شاءاﷲ وہ ان رحمتوں کا مستحق ہوگا،صبح شام کے رزق سے مراد دائمی رزق یعنی اسے ہمیشہ جنت سے روزی ملے گی۔

1596 -[74]

عَن الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَخْتَصِمُ الشُّهَدَاءُ وَالْمُتَوَفَّوْنَ على فرشهم إِلَى رَبنَا فِي الَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنَ الطَّاعُونِ فَيَقُولُ الشُّهَدَاءُ: إِخْوَاننَا قتلوا كَمَا قتلنَا وَيَقُول: المتوفون على فرشهم إِخْوَانُنَا مَاتُوا عَلَى فُرُشِهِمْ كَمَا مِتْنَا فَيَقُولُ رَبنَا: انْظُرُوا إِلَى جراحهم فَإِن أشبهت جراحهم جِرَاحَ الْمَقْتُولِينَ فَإِنَّهُمْ مِنْهُمْ وَمَعَهُمْ فَإِذَا جِرَاحُهُمْ قد أشبهت جراحهم ". رَوَاهُ أَحْمد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت عرباض ابن ساریہ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ شہید اور اپنے بستروں پر مرنے والے اﷲ عزوجل کی بارگاہ میں ان کے متعلق جھگڑتے ہیں جو طاعون میں فوت ہوئے ۱؎ شہید تو کہتے ہیں کہ یہ ہمارے بھائی ہیں ہماری طرح یہ بھی قتل ہوئے اور ویسے مرنے والے کہتے ہیں کہ یہ ہمارے بھائی ہیں جو اپنے بستروں پر ہماری طرح فوت ہوئے رب فرماتاہے کہ ان کے زخم دیکھو اگر ان کے زخم مقتولوں کی طرح ہوں تو یہ ان ہی سے ہیں ان ہی کے ساتھ ہیں دیکھاتو ان کے زخم شہدا کے زخموں کے مشابہ ہیں۲؎ (احمد،نسائی)

۱؎ مؤمن کے مرنے پر اس سے ملاقات کرنے گزشتہ مؤمنین کی روحیں آتی ہیں اورجس قسم کا یہ شخص ہوتا ہے اسی جماعت کے لوگ اسے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ولی کی روح کو اولیاء،شہید کی روح کو شہداء۔غرضکہ تاقیامت بلکہ بعد قیامت جنت میں بھی ہر روح اپنے ہم جنسوں کے ساتھ رہے گی۔

۲؎ طاعون میں بغل یا جنگا سے پرگلٹیاں نکلتی ہیں جو پھوٹ کر زخم بن جاتی ہیں،ان میں ایسی تکلیف ہوتی ہے جیسےکوئی برچھیاں ماررہا ہے بلکہ جنات برچھیاں مارتے بھی ہیں اسی لیے اس کو طاعون کہتے ہیں۔بعدموت ان کے یہ زخم شہداء کے زخموں کی طرح قرار دیئے جائیں گے اور ان لوگوں کو شہیدوں کے ساتھ رکھا جائے گا۔اس حدیث سے اشارۃً معلوم ہوا کہ موت کے بعدبھی قیاس ہوگا قیاس کے منکر اس سے کہاں تک بچیں گے۔

1597 -[75]

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْفَارُّ مِنَ الطَّاعُونِ كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ وَالصَّابِرُ فِيهِ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طاعون سے بھاگنے والا،جہاد سے بھاگنے کی طرح ہے اور طاعون میں صابرکو شہید کا ثواب ہے ۱؎ (احمد)

 



Total Pages: 519

Go To