Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1580 -[58]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يُكَفِّرُهَا مِنَ الْعَمَلِ ابْتَلَاهُ اللَّهُ بِالْحَزَنِ لِيُكَفِّرَهَا عَنهُ» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب بندے کے گناہ زیادہ ہوجاتے ہیں اور اس کے پاس گناہ مٹانے والا عمل نہیں ہوتا تو اﷲ اسے غم میں مبتلاکردیتا ہے تاکہ اس کے گناہ مٹادے ۱؎(احمد)

۱؎ غم کی وجہ سے،طبرانی اورحاکم کی روایت میں ہے کہ اللہ غمگین دل کو پسندکرتاہے اسی لیے صوفیاء فرماتے کہ رنج وغم میں دُرود شریف زیادہ پڑھوکیونکہ اکثر رنج وغم گناہوں کی وجہ سے آتے ہیں اور دُرود شریف کی برکت سے گناہ مٹتے ہیں،جب گناہ گئے تو ان کا سامان یعنی رنج و غم بھی گیا۔

1581 -[59]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ يَخُوضُ الرَّحْمَةَ حَتَّى يَجْلِسَ فَإِذَا جَلَسَ اغتمس فِيهَا» . رَوَاهُ مَالك وَأحمد

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جوکسی مریض کی بیمار پرسی کرے تو وہ رحمت میں غوطے لگاتاہے ۱؎ حتی کہ بیٹھ جائے جب بیٹھ جاتا ہے تو رحمت میں ڈوب جاتا ہے۲؎(مالک،احمد)

۱؎ یعنی گھر کے نکلنے سے بیمار کے پاس پہنچنے تک دریائے رحمت میں غوطہ لگاتاجاتاہے۔(اشعہ)

۲؎ کہ اسے رحمت ہرطرف سے گھیر لیتی ہے اور ہر گناہ سے پاک کردیتی ہے۔

1582 -[60]

وَعَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمُ الْحُمَّى فَإِنَّ الْحمى قِطْعَة من النَّار فليطفها عَنْهُ بِالْمَاءِ فَلْيَسْتَنْقِعْ فِي نَهْرٍ جَارٍ وَلْيَسْتَقْبِلْ جِرْيَتَهُ فَيَقُولُ: بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ وَصدق رَسُولك بعد صَلَاة الصُّبْح وَقبل طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلْيَنْغَمِسْ فِيهِ ثَلَاثَ غَمْسَاتٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي ثَلَاثٍ فَخَمْسٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي خَمْسٍ فَسَبْعٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي سَبْعٍ فَتِسْعٍ فَإِنَّهَا لَا تَكَادَ تُجَاوِزُ تِسْعًا بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت ثوبان سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سےکسی کو بخار آئے ۱؎ تو بخار آگ کا ٹکڑا ہے اسے پانی سے بجھائے کہ جاری نہر میں غوطہ لگائے اس کے بہاؤ کی طرف منہ کرے پھر کہے بسم اﷲ الٰہی  اپنے بندےکو شفا دے اور اپنے رسول کو سچا کردے یہ فجرکی نماز کے بعد سورج نکلنے سے پہلے کرے تین دن تک تین غوطے لگایاکرے اگر اس میں تندرست نہ ہو تو پانچ دن اگر اس میں بھی اچھا نہ ہو تو سات دن اگر اس میں بھی اچھا نہ ہو تو نو دن بحکم الٰہی  یہ بخار نو دن سے آگے نہیں بڑھے گا ۲؎(ترمذی) اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎ یہ خطاب اہلِ عرب کو ہے جنہیں اکثر صفراوی بخار آتے تھے جس میں غسل مفید ہوتا ہے۔ہم لوگ اس پر بغیر حاذق حکیم کے مشورے کے عمل نہ کریں کیونکہ ہمیں اکثر وہ بخار ہوتے ہیں جن میں غسل نقصان دہ ہے اس سے نمونیہ کا خطرہ ہوتا ہے،ہاں کبھی ہم کوبھی بخار میں غسل مفید ہوتا ہےحتی کہ ڈاکٹر مریض کے سر پر برف بندھواتے ہیں۔

 



Total Pages: 519

Go To