Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1577 -[55] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: قَالَ لي ابْن عَبَّاس رَضِي الله عَنهُ: أَلا أريك امْرَأَة من أهل الْجنَّة؟ فَقلت: بَلَى. قَالَ: هَذِهِ الْمَرْأَةُ السَّوْدَاءُ أَتَتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أصرع وَإِنِّي أتكشف فَادع الله تَعَالَى لي. قَالَ: «إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْت الله تَعَالَى أَنْ يُعَافِيَكَ» فَقَالَتْ: أَصْبِرُ فَقَالَتْ: إِنِّي أَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ فَدَعَا لَهَا

روایت ہے حضرت عطاء ابن ابی رباح سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن عباس نے فرمایا کیا میں تمہیں جنتی عورت نہ دکھاؤں میں نے کہا ہاں ضرور فرمایا یہ کالی عورت ۲؎ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تھی اور عرض کیا تھا یارسول اﷲ میں مرگی میں گر جاتی ہوں۳؎ اورکھل جاتی ہوں میرے لیئے اﷲ سے دعا کیجئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے تو صبرکر جنت تیرے لیئے ہے۴؎ اگر توچاہے تو میں اﷲ سے دعا کردوں کہ تجھے آرام دے۵؎ وہ بولی میں صبرکروں گی پھر بولی کہ میں کھل جاتی ہوں اﷲ سے یہ دعا کردیں کہ میں کھلا نہ کروں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیئے دعا کی ۶؎(مسلم،بخاری)

۱؎ آپ تابعین میں سےجلیل الشان فقیہ وعالم ہیں،امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان جیسا فاضل نہ دیکھا۔سیاہ رنگ تھے، پہلے ایک آنکھ بیکارتھی بعد میں نابینا ہوگئے تھے،پاؤں سےبھی معذور تھے،آپ کے فوت ہونے کے دن امام اوزاعی نے فرمایا کہ آج زمین بہترین مؤمن سے خالی ہوگئی۔(اشعہ)

۲؎  اس مبارک عورت کا نام سعیرہ یا سقیرہ ہے،بی بی خدیجہ کی کنگھی چوٹی کی خدمت انجام دیتی تھیں۔(لمعات ومرقات)

۳؎ یعنی گرکر مجھے تن بدن کا ہوش نہیں رہتا،دوپٹہ وغیرہ اتر جاتا ہے،خوف کرتی ہوں کہ کبھی بے ہوشی میں ستر نہ کھل جائے۔

۴؎ اس میں اشارۃً معلوم ہوا کہ کبھی بیماری کی دوا اور مصائب میں دعا نہ کرنا ثواب اور صبرمیں شامل ہے،اس کا نام خودکشی نہیں،خصوصًا جب پتہ لگ جائے کہ یہ مصیبت رب کی طرف سے امتحان ہے تو ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کی آگ میں جاتے وقت اور حضرت حسین علیہ السلام نے میدان کربلا میں دفعیہ کی دعا نہ کی،ورنہ عام حالات میں دوا بھی سنت ہے اور دعاءبھی،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اکثر دعا کی ہے اور صدیق اکبر نے مرض وفات میں دوا بھی۔خیال رہے کہ مرن برت رکھ کر جان دے دینا خودکشی ہے اور مشرکوں کی پیروی کیونکہ کھانا اور پانی دوا نہیں بلکہ زندگی کا مدار ہے۔

۵؎ اگرچہ آرام ہونے پر بھی تو جتنی تو ہوگی کیونکہ تو مؤمنہ اور صحابیہ ہے مگر صبر پر جنت کے اعلیٰ مقام کی مستحق ہوگی اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں جنت کی نفی نہ کی۔

۶؎ چنانچہ اس دعا کے بعد وہ بی بی کبھی مرگی میں کھلی نہیں،رب نے ان پر فرشتہ مقرر کردیا ہوگا جو ان کے پردے کی حفاظت کرے۔

1578 -[56]

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا جَاءَهُ الْمَوْتُ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رجل: هيئا لَهُ مَاتَ وَلَمْ يُبْتَلَ بِمَرَضٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْحَكَ وَمَا يُدْرِيكَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ ابْتَلَاهُ بِمَرَضٍ فَكَفَّرَ عَنهُ من سيئاته» . رَوَاهُ مَالك مُرْسلا

روایت ہے حضرت یحیی ابن سعید سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کو موت آئی تو دوسرا آدمی بولا اسے مبارک ہو کہ بیماری میں مبتلا ہوئے بغیر فوت ہو گیا ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پر افسوس ہے تمہیں کیاخبرکہ اگر اﷲ اسے کسی بیماری میں مبتلا کرتا تو اس کے گناہ مٹا دیتا ۲؎(مالک مرسلًا)

۱؎ یہ قائل سمجھتے تھے کہ بیماریاں رب کی پکڑ ہیں اورتندرست رہنا اس کی رحمت،یہ صاحب اچانک فوت ہوگئے تھے اس لیے بطور مبارک باد یہ عرض کیا،اسی خیال پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضی کا اظہار کیا۔

۲؎ یعنی مؤمن کی بیماری خصوصًا بیماری موت بھی اﷲ کی رحمت ہے کہ اس کی برکت سے اﷲ گناہ معاف کرتا ہے،نیز بندہ توبہ وغیرہ کرکے پاک و صاف ہوجاتاہے،لہذا بیمارہوکرمرنا بہتر،اگرچہ مؤمن کے لیے ہاٹ فیل ہونا بھی رحمت ہے جیساکہ آگے آرہا ہے،لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔

1579 -[57]

وَعَن شَدَّاد بن أَوْس والصنابحي أَنَّهُمَا دَخَلَا عَلَى رَجُلٍ مَرِيضٍ يَعُودَانِهِ فَقَالَا لَهُ: كَيفَ أَصبَحت قَالَ أَصبَحت بِنِعْمَة. فَقَالَ لَهُ شَدَّادٌ: أَبْشِرْ بِكَفَّارَاتِ السَّيِّئَاتِ وَحَطِّ الْخَطَايَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِذَا أَنَا ابْتَلَيْتُ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنًا فَحَمِدَنِي عَلَى مَا ابْتَلَيْتُهُ فَإِنَّهُ يَقُومُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِكَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ مِنَ الْخَطَايَا. وَيَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَنَا قَيَّدْتُ عَبْدِي وَابْتَلَيْتُهُ فَأَجْرُوا لَهُ مَا كُنْتُمْ تُجْرُونَ لَهُ وَهُوَ صَحِيح ". رَوَاهُ احْمَد

روایت ہے حضرت شداد ابن اوس اور صنابحی سے ۱؎ کہ وہ دونوں ایک مریض کی بیمار پرسی کے لیئے گئے انہوں نے اس سے کہا کہ تم نے صبح کیسی کی وہ بولے اﷲ کی نعمت میں صبح کی۲؎ شداد نے فرمایا گناہوں کے مٹنے اور خطاؤں کے جھڑنے کی خوش خبری لو میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اﷲ تعالٰی فرماتا ہے جب میں اپنے بندوں میں سےکسی مؤمن بندے کو مبتلا کردوں اور وہ اس مبتلا کرنے پر میری حمدکرے تو وہ اپنے اس بسترسے گناہوں سے یوں پاک اٹھے گا جیسے آج اسے ماں نے جنا۳؎ رب تعالٰی فرمائے گا کہ میں نے اپنے بندے کو قید کیا مبتلا کیا تو اس کے لیئے وہ ثواب جاری کرو جوتم اس کے تندرستی میں جاری کرتے تھے ۴؎(احمد)

 



Total Pages: 519

Go To