Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

وہ ناسمجھ بچے جنہیں بُرے بھلے کی تمیز نہ ہو اگر اسی حال میں مرجائیں توجہنمی نہیں کہ رب بغیر قصورکسی کو عذاب نہیں دیتا لیکن باشعور بچےجہنمی ہیں،چونکہ یہ بچہ سمجھدار تھا اگربغیر ایمان مرجاتا تو دوزخ میں جاتا،لہذا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بالکل درست ہے کہ ایمان کی وجہ سے اﷲ نے اسے بالکل دوزخ سے بچالیا۔کفار کے بچوں کی پوری بحث ہماری تفسیر "نور العرفان"میں دیکھو۔

1575 -[53]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَادَ مَرِيضًا نَادَى مُنَادٍ فِي السَّمَاءِ: طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا ". رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بیمار کی بیمار پرسی کرنے جائے تو آسمان سے پکارنے والا پکارتا ہے تو اچھا،تیرا چلنا اچھا،تو نے جنت میں گھر لے لیا ۱؎(ابن ماجہ)

۱؎ پکارنے والا فرشتہ ہوتا ہے اور یہ کلام یا دعا ہے یا خبر یعنی خدا کرے تو اورتیرا چلنا اچھا ہو اورتو جنت میں مکان پالے یا تو اچھا ہے اور تو نے گویا جنت میں مکان بنالیا،مگر یہ بشارتیں اس کے لیئے ہیں جومحض رضائے الٰہی  کے لیئے بیمار پرسی کرے۔

1576 -[54]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ عَلِيًّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَقَالَ النَّاسُ: يَا أَبَا الْحَسَنِ كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَصْبَحَ بِحَمْدِ الله بارئا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ حضرت علی مرتضٰی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آئے آپ کی اس بیماری میں جس میں وفات ہوئی لوگوں نے کہا اے ابو الحسن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کیسی کی فرمایا الحمدﷲ صحت میں صبح کی ۱؎(بخاری)

۱؎ یعنی آپ کے مرض میں کوئی ہلکا پن نہ تھا مگر جناب علی نے یہ فرمایا۔مطلب یہ ہے کہ خدا کے فضل سےحضورصلی اللہ علیہ وسلم کا قلب پاک تندرست ہے یا ان شاءاﷲ آپ قریب صحت ہیں۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بیمار پرسی کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بیمار کا حال آنے والے سے پوچھ لیا جائے۔دوسرے یہ کہ اگر بیمار کا حال خراب بھی ہو تب بھی لفظ اچھے بولے جائیں کہ اس میں فال بھی نیک ہے اور رحمتِ الٰہی  کی امیدبھی۔

1577 -[55] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: قَالَ لي ابْن عَبَّاس رَضِي الله عَنهُ: أَلا أريك امْرَأَة من أهل الْجنَّة؟ فَقلت: بَلَى. قَالَ: هَذِهِ الْمَرْأَةُ السَّوْدَاءُ أَتَتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أصرع وَإِنِّي أتكشف فَادع الله تَعَالَى لي. قَالَ: «إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْت الله تَعَالَى أَنْ يُعَافِيَكَ» فَقَالَتْ: أَصْبِرُ فَقَالَتْ: إِنِّي أَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ فَدَعَا لَهَا

روایت ہے حضرت عطاء ابن ابی رباح سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن عباس نے فرمایا کیا میں تمہیں جنتی عورت نہ دکھاؤں میں نے کہا ہاں ضرور فرمایا یہ کالی عورت ۲؎ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تھی اور عرض کیا تھا یارسول اﷲ میں مرگی میں گر جاتی ہوں۳؎ اورکھل جاتی ہوں میرے لیئے اﷲ سے دعا کیجئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے تو صبرکر جنت تیرے لیئے ہے۴؎ اگر توچاہے تو میں اﷲ سے دعا کردوں کہ تجھے آرام دے۵؎ وہ بولی میں صبرکروں گی پھر بولی کہ میں کھل جاتی ہوں اﷲ سے یہ دعا کردیں کہ میں کھلا نہ کروں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیئے دعا کی ۶؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To