$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1573 -[51]

وَعَن سُلَيْمَان بن صرد قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مَنْ قَتَلَهُ بَطْنُهُ لَمْ يُعَذَّبْ فِي قَبْرِهِ» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت سلیمان ابن صرد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جسے اس کے پیٹ نے مارا تو اسے عذاب قبر نہ ہوگا ۱؎(احمد،ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎ اپنی پیٹ کی بیماری سے مرنے والا عذاب قبر سےمحفوظ ہے کیونکہ اسے دنیا میں اس مرض کی وجہ سے بہت تکلیف پہنچ چکی،یہ تکلیف قبر کا دفعیہ بن گئی۔

الفصل الثالث 

تیسری فصل

1574 -[52]

عَن أنس قَالَ: كَانَ غُلَامٌ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ: «أَسْلِمْ» . فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَهُ فَقَالَ: أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ. فَأَسْلَمَ. فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا ۱؎ وہ بیمار ہوگیا تو اس کی بیمار پرسی کے لیئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اس کے سر کے پاس تشریف فرما ہوئے اور فرمایا اسلام لے آ۲؎ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے پاس تھا۳؎ باپ بولا بیٹا حضور ابوالقاسم کی بات مان لو بچہ اسلام لے آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہوئے واپس ہوئے کہ خدا کا شکر ہے جس نے اسے آگ سے بچالیا۴؎(بخاری)

۱؎ اس یہودی بچہ کا نام عبدالمقدوس تھا جو اپنی خوشی سےحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔معلوم ہوا کہ کفار کے بچے اگر بخوشی ہماری صحبت یا خدمت اختیارکریں تو انہیں روکنا نہ چاہیئے،بسا اوقات اس سے انہیں ایمان نصیب ہوجاتا ہے۔

۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ کافر و فاسق کی بیمار پرسی جائز ہے اوربیمار پرسی کے وقت بیمار کے سرہانے بیٹھنا سنت ہے اور کافر بچے کوبھی ایمان کی تلقین کرنا درست ہے اور کافر بچے کا ایمان قبول ہے جب کہ وہ سمجھ دار ہو اور یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم اپنے خدام کو بھولتے نہیں،مرتے وقت بھی ان کی امدادکرتے ہیں۔اس حدیث سےہم گنہگاروں کو امید بندھتی ہے کہ ان شاءاﷲ حضورصلی اللہ علیہ وسلم ہم کو مرتے وقت نہ بھولیں گے،اس وقت ہماری دستگیری فرمائیں گے۔علماء فرماتے ہیں کہ اب بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم اپنے خاص خدام کو ان کے مرتے وقت کلمہ پڑھانے تشریف لاتے ہیں،ایسے لوگ دیکھے گئے جنہوں نے مرتے وقت حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خبرحاضرین کو دی خود بستر مرگ پر اٹھ کھڑے ہوئے حاضرین سے کہاتعظیم کرو حضور صلی اللہ علیہ وسلم آگئے۔

۳؎ یعنی بچہ نے باپ کے خوف سے خود کلمہ نہ پڑھ لیا بلکہ اجازت چاہنے کے لئے اس کی طرف دیکھا،رب کی شان اس نے اجازت دے دی۔

۴؎ معلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت رائیگاں نہیں جاتی۔دیکھو اس بچہ نے اس خدمت پاک کی برکت سے مرتے وقت ایمان پالیا۔رب تعالٰی فقیر کی یہ دینی خدمات قبول فرمائے اور اس بچہ کے طفیل سے مجھے بھی مرتے وقت کلمہ نصیب کرے۔آمین! مرتے وقت کا ایمان بھی قبول ہے غرغرہ سے پہلے اور بچے کا ایمان بھی معتبر۔خیال رہے کہ مشرکین وکفار کے



Total Pages: 519

Go To
$footer_html