Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ آپ صحابی ہیں،نام عامر ہے،تیراندازی کرتے تھے اس لیے رام لقب ہوا،آپ سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے بسند مجہول۔

۲؎ کیونکہ مؤمن بیماری میں اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ یہ بیماری میرےکسی گناہ کی وجہ سے آئی اور شاید یہ آخری بیماری ہوجس کے بعدموت ہی آئے اس لیے اسے شفاء کے ساتھ مغفرت بھی نصیب ہوتی ہے۔

۳؎ بلکہ منافق غافل یہی سمجھتا ہے کہ فلاں وجہ سے میں بیمار ہوا تھا اور فلاں دوا سے مجھے آرام ملا،اسباب میں ایسا پھنسا رہتا ہے کہ مسبب الاسباب پرنظر ہی نہیں جاتی،نہ توبہ کرتا ہے،نہ اپنے گناہوں میں غور۔

۴؎ یہ شخص منافق تھا جس کا کفر پرمرناحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں تھا اس لیئے اس سختی سے اسے یہ جواب دیا۔بعض روایات میں ہے کہ اس موقعہ پر یہ بھی فرمایا کہ جو دوزخی کو دیکھنا چاہے وہ ا سے دیکھ لے۔(مرقاۃ)ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سراپا اخلاق ہیں محض بیمار نہ ہونے پر ایسی سختی نہ فرماتے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو رب نے لوگوں کے اچھے برے انجام کی خبردی ہے،حالانکہ یہ علوم خمسہ سے ہیں۔دوسرے یہ کہ کفار پرسختی کرنا ہی اخلاق ہے رب فرماتا ہے:"اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمْ"۔سانپ کا سر کچلنا ہی اخلاق حسنہ ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کفار پر نرمی برتی ہے جن کے ایمان کی امیدتھی،آج کل لوگوں نے اخلاق کے معنی غلط سمجھے ہیں۔

1572 -[50]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَى الْمَرِيضِ فَنَفِّسُوا لَهُ فِي أَجَلِهِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا وَيُطَيِّبُ بِنَفْسِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ تو کچھ درازیٔ حیات کی بات کرکے اس کا غم دور کرو ۱؎ کیونکہ یہ گفتگو تقدیر کو رد نہ کرے گی اور اس کا دل خوش ہوجائیگا۲؎(ترمذی، ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎ نَفِّسُوْا تَنْفِیْس سے بنا،بمعنی تفریح یعنی غم دورکرنا،بیمارکو ڈراؤ نہیں کہ تو بچے گا نہیں مرض بہت سخت ہے بلکہ کہو ان شاءاﷲ شفا ہوگی گھبراؤ نہیں،بعض طبیب مریض کے آخر دم تک ہمت بندھانے والی باتیں کرتے ہیں،اسے مایوس نہیں ہونے دیتے،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے اس کا نام دھوکا دہی نہیں بلکہ اسے تسکین کہتے ہیں۔مایوس بیمارکی ہمت ٹوٹ جاتی ہے جس سے وہ اور زیادہ نڈھال ہوکر بہت تکلیف اٹھاتا ہے۔

۲؎ یعنی تمہارے ڈھارس بندھانے سے اس کی ہمت بڑھ جائے گی۔مرقاۃ نے فرمایا کہ موت کے وقت میت کو وضو،مسواک کرادینا،خوشبو لگادینا مستحب ہے اس سے جانکنی آسان ہوتی ہے بلکہ اگر ممکن ہو تو اس وقت اسےغسل کرادو،عمدہ کپڑے پہنا دو،اگر ہوسکے وہ دو۲رکعت نفل نماز وداع کی نیت سے پڑھے،یہ باتیں حضرت سلمان فارسی،حضرت خبیب اور حضرت سیدہ فاطمہ الزہراہ سے منقول ہیں کہ انہوں نے بوقت وفات یہ اعمال کیے یہ سب یَطِیْبُ بِنَفْسِہٖ میں داخل ہیں کہ اس سے میت کو خوشی حاصل ہوتی ہے۔

1573 -[51]

وَعَن سُلَيْمَان بن صرد قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مَنْ قَتَلَهُ بَطْنُهُ لَمْ يُعَذَّبْ فِي قَبْرِهِ» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت سلیمان ابن صرد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جسے اس کے پیٹ نے مارا تو اسے عذاب قبر نہ ہوگا ۱؎(احمد،ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

 



Total Pages: 519

Go To