Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

الفصل الثاني

دوسری فصل

1550 -[28]

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا غُدْوَةً إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سناکہ ایسا کوئی مسلمان نہیں جوکسی مسلمان کی صبح کے وقت بیمار پرسی کرے مگر ستر ہزار فرشتے اسے شام تک دعائیں دیتے ہیں اور اگر شام کو بیمار پرسی کرے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے دعائیں دیتے ہیں اور اس کے لیئے جنت میں باغ ہوگا ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)

۱؎ صبح سے لے کر دوپہر تک کو غدوۃ کہا جاتا ہے اور زوال سے شروع رات تک عشاء۔خریف چنے ہوئے پھلوں کو بھی کہتے ہیں اور باغ کو بھی،یہاں دوسرے معنے مراد ہیں یعنی بیمار پرسی معمولی سی نیکی معلوم ہوتی ہے مگر یہ لاتعداد فرشتوں کی دعا ملنے کا ذریعہ ہے اور جنت ملنے کا سبب بشرطیکہ صرف رضائے الٰہی  کے لیے ہو۔

1551 -[29]

وَعَن زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ قَالَ: عَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم من وجع كَانَ يُصِيبنِي. رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آنکھ کے درد میں بیمار پرسی کی ۱؎ (احمد،ابوداؤد)

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ معمولی بیماری میں بھی بیمار پرسی کرنا سنت ہے جیسے آنکھ یا کان یا ڈاڑھ کا درد کہ یہ اگرچہ خطرناک نہیں مگر بیماری تو ہیں۔جن فقہاء نے فرمایا کہ ان بیماریوں میں عیادت سنت نہیں ان کا مطلب ہے سنت مؤکدہ نہیں۔مرقاۃ نے فرمایا کہ جس بیماری کی وجہ سے بیمار باہر چل پھر نہ سکے اس میں عیادت کرے۔

۲؎ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے،بیہقی وطبرانی میں جو ہے کہ پھنسی،آنکھ و ڈاڑھ کے درد میں عیادت نہیں وہ حدیث مرفوع صحیح نہیں بلکہ ابن کثیر کا قول ہےجیساکہ بیہقی نے بسندصحیح روایت کیا۔(اشعہ)

1552 -[30]

وَعَنْ أَنَسٍ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ وَعَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ مُحْتَسِبًا بُوعِدَ مِنْ جَهَنَّمَ مسيرَة سِتِّينَ خَرِيفًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اچھی طرح وضوکرے اورطلب ثواب کے لیئے اپنے مسلمان بھائی کی بیمار پرسی کرے ۱؎ تو ستر سال کے فاصلہ پر دوزخ سے دور رکھا جائے گا ۲؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی باوضو بیمار پرسی کی جائے کیونکہ عیادت لفظًا ومعنیً عبادت ہے اورعبادت باوضو بہترہے،نیز عیادت میں دعا اور مریض پر کچھ پڑھ کر دم کرنا ہوتا ہے اورباوضو دعا و دم بہتر ہے،بعض لوگ باوضو قربانی فاتحہ و ایصال ثواب کراتے ہیں بلکہ گیارھویں شریف کا کھاناباوضو پکاتے اورکھاتےہیں،یہ حدیث ان کی اصل ہے۔

۲؎ یعنی عیادت کی برکت سے وہ دوزخ سے اتنا دور رہے گا کہ اگر وہاں سے چلے تو ستر سال میں دوزخ کے کنارے پہنچے۔خیال رہے کہ خریف موسم خزاں کو کہتے ہیں جیسے ربیع موسم بہار کو کہا جاتاہے مگر یہاں اس سے سال مراد ہے،جزء بول کر کل



Total Pages: 519

Go To