Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

کہے تو سننے والے سب یا ایک جواب میں کہیں "یَرْحَمُكَ اﷲُ"پھرچھینکنے والاکہے"یَھْدِیْکُمُ اﷲُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ"اور اگر وہ حمد نہ کرے یا اسے زکام ہےکہ باربارچھینکتاہے تووہ پھر جواب ضروری نہیں۔سلام کرنا سنت ہے اور جواب دینا فرض مگر ثواب سلام کا زیادہ ہے،یہ ان سنتوں میں سے ہے جس کا ثواب فرض سے زیادہ ہے۔(شامی ومرقاۃ وغیرہ)اس کے مسائل ان شاءاﷲ "کتاب الادب"میں آئیں گے۔

1525 -[3]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ» . قِيلَ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتْهُ وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں:پوچھا گیا یا رسول اﷲ وہ کیا فرمایا جب تم اس سے ملو تو اسے سلام کرو ۱؎ جب تمہیں بلائے تو قبول کرو ۲؎ اور جب تم سے خیرخواہی چاہے تو کرو۳؎ جب چھینکے اﷲ کی حمدکرے تو اس کا جواب دو، جب بیمارہوتو عیادت کرو،جب مرجائے تو ساتھ جاؤ ۴؎(مسلم)

۱؎ تین وقت سلام کرنا سنت ہے:گھر میں آنے کی اجازت چاہتے وقت،ملاقات کے وقت،رخصت کی وقت،یہاں دوسرے سلام کا ذکر ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ آنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور جب راستہ میں چلتے ہوئے کسی سے ملاقات ہو تو پیچھے سے ملنے والا آگے والے کو سلام کرے اور اگر دونوں سامنے سے آرہے ہیں تو چھوٹا بڑے کو،تھوڑے زیادہ کو سلام کریں اور اگر ان میں یہ کوئی فرق نہ ہو تو جو چاہے سلام کرے،جماعت میں سے ایک کا سلام یا جواب سب کی طرف سے ہوگا۔

۲؎ مدد کے لیے یا کھانے یا عام دعوت میں انتظام کے لیے تو ضرور جاؤ،ہاں اگر مجبوری یا معذوری ہو تو نہ جاؤ۔

۳؎ یعنی تم سے کوئی مشورہ کرے تو اچھا مشورہ دو،اگر شرعی مسئلہ پوچھے تو ضرور بتاؤ۔یہ لفظ نَصْحٌ سے بنا،بمعنی خلوص،کہا جاتاہے"عَسْلٌ نَاصِحٌ"شہد خالص ہے،یعنی خالص اچھی رائے دو جس میں برائی کا شائبہ نہ ہو۔

۴؎ اگر چھینک بیماری سے نہ ہو تو صفائی دماغ کا ذریعہ ہے،آدم علیہ السلام کو پیدا ہوتے ہی سب سے پہلے چھینک آئی،اس شکریہ میں اس پر حمدکرنی چاہیے،بعض جگہ مشہور ہے کہ ہفتہ کے دن بیمار پرسی نہ کی جائے،نماز جنازہ کے لیے جانا بھی سنت ہے اور دفن کے لیےبھی۔

1526 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا: بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَرَدِّ السَّلَامِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَنَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنِ الْحَرِيرِ والْإِسْتَبْرَقِ وَالدِّيبَاجِ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ وَالْقَسِّيِّ وَآنِيَةِ الْفِضَّةِ وَفِي رِوَايَةٍ وَعَنِ الشُّرْبِ فِي الْفِضَّةِ فَإِنَّهُ مَنْ شَرِبَ فِيهَا فِي الدُّنْيَا لم يشرب فِيهَا فِي الْآخِرَة

روایت ہےحضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ ہم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کا حکم دیا اور سات سے منع کیا،ہمیں مریض کی عیادت،جنازوں کے ساتھ جانے، چھینک والے کا جواب دینے،سلام کا جواب دینے،دعوت قبول کرنے،قسم والے کو بری کرنے ۱؎ مظلوم کی مددکرنے کا حکم دیا ۲؎ اورسونے کی انگوٹھی باریک وموٹے ریشم و دیباج پہننے۳؎ سرخ نمدے ۴؎ اورقسی پہننے۵؎ چاندی کے برتن کے استعمال سے منع فرمایا اور ایک روایت میں ہے کہ چاندی میں پینے سے منع فرمایا کہ جو دنیا میں اس میں پی لے گا وہ آخرت میں اس سے نہ پی سکے گا۶؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To