Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

کتاب الجنائز

جنازوں کی کتاب ۱؎

باب عیادۃ المریض وثواب المریض

بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا باب

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ لغت میں جنازہ وہ تخت ہے جس پر میت کو نہلایا جائے یا وہ چارپائی جس پر میت کو قبرستان پہنچایا جائے،اب خود میت کو جنازہ کہنے لگے،بعض فرماتے ہیں کہ جنازہ جیم کے فتح سے تخت یا چار پائی ہے اور جیم کے کسرہ سے میت یا اس کے برعکس،یہاں میت کے معنی میں ہے۔خیال رہے کہ بیمارکی بیمار پرسی بڑے ثواب کا باعث ہے۔

1523 -[1]

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَعُودُوا الْمَرِيض وفكوا العاني» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھوکوں کوکھلاؤ ۱؎ بیماروں کی مزاج پرسی کرو قیدی چھوڑاؤ ۲؎(بخاری)

۱؎ بھوکوں کو کھاناکھلانا سنت ہے اور بھوک سے مررہا ہو تو فرض کفایہ بلکہ کبھی فرض عین ہے۔اس بھوک میں انسان جانورسبھی داخل ہیں،بعض گنہگار پیاسے کتے کو پانی پلانے میں بخشے گئے۔(حدیث)

۲؎ یہاں قیدی سے مراد غلام یا مقروض ہے اورچھوڑانے سے مراد آزادکرانا یا قرضہ اداکرنا ہے یا یہ مطلب ہے کہ جومسلمان کفار کے ہاتھوں ظلمًا قید ہوگئے ہیں انہیں کوشش سے آزاد کراؤ،یہ مطلب نہیں کہ چور و بدمعاشوں کو جیل سے نکال دو تاکہ خوب چوریاں،بدمعاشیاں کریں۔

1524 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ: رَدُّ السَّلَامِ وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ وَإِجَابَةُ الدعْوَة وتشميت الْعَاطِس "

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں ۱؎ سلام کا جواب دینا،بیمارکی عیادت کرنا،جنازوں کے ساتھ جانا،دعوت قبول کرنا،چھینک کا جواب دینا ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یہ پانچ کی تعداد حصر کے لیے نہیں بلکہ اہتمام کے لیے ہے یعنی پانچ حق بہت شاندار اورضروری ہیں کیونکہ یہ قریبًا سارے فرض کفایہ اورکبھی فرض عین ہیں لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں زیادہ حقوق بیان ہوئے۔خیال رہے کہ یہ اسلامی حقوق ہیں۔مسلمان فاسق ہویا متقی سب کے ساتھ یہ برتاوے کیے جائیں،کافروں کا ان میں سےکوئی کوئی حق نہیں۔

۲؎ بیمارکی عیادت اور خدمت یوں ہی جنازے کے ساتھ جانا عام حالات میں سنت ہے لیکن جب کوئی یہ کام نہ کرے تو فرض ہے،کبھی فرض کفایہ،کبھی فرض عین،یوں ہی دعوت میں شرکت کھانے کے لیے یا وہاں انتظام و کام و کاج کے لیے سنت ہے، کبھی فرض لیکن اگر خاص دسترخوان پرناجائز کام ہوں جیسے شراب کا دور یا ناچ گانا تو شرکت ناجائزہے،چھینکنے والا الحمد ﷲ



Total Pages: 519

Go To