$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1520 -[10]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَبْصَرْنَا شَيْئًا مِنَ السَّمَاءِ تَعْنِي السَّحَابَ تَرَكَ عَمَلَهُ وَاسْتَقْبَلَهُ وَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ» فَإِنْ كَشَفَهُ حَمِدَ الله وَإِن مطرَت قَالَ: «اللَّهُمَّ سَقْيًا نَافِعًا». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَالشَّافِعِيّ وَاللَّفْظ لَهُ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان پرکوئی شےیعنی بادل نمودار دیکھتے تو اپنے کام کاج چھوڑ دیتے اور ادھرمتوجہ ہوجاتے ۱؎ اورکہتے الٰہی  جو کچھ اس میں ہے اس کی شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں پھر اگرکھل جاتا تو اﷲ کا شکر کرتے اور اگر بارش ہوتی تو کہتے الٰہی  اسے نفع بخش بارش بنا ۲؎(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،شافعی)لفظ شافعی کے ہیں۔

۱؎ یعنی غیرضروری کام چھوڑ دیتے جیسےکھانا پینا،کسی سےبات چیت۔یہ مطلب نہیں کہ نماز وغیرہ عبادات چھوڑ دیتے۔اس سےمعلوم ہوا کہ دعا کے وقت تمام الجھنوں سے دل کا فارغ ہونا بہت مفیدہے اگرچہ مشغولیت میں بھی دعائیں اچھی ہیں۔

۲؎ یعنی اگر بغیر بارش ہوئے بادل پھٹ کر غائب ہوجاتا تو بارش نہ ہونے پرنہیں بلکہ مصیبت نہ آنے پر شکر کرتے اور اگر برسنے لگتا تو یہ دعا فرماتے۔اب بھی یہ دعائیں یادکرنی چاہئیں اور ان موقعوں پر پڑھنی چاہئیں۔

1521 -[11]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا سَمِعَ صَوْتَ الرَّعْدِ وَالصَّوَاعِقَ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ وَلَا تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گرج وکڑک کی آواز سنتے ۱؎ تو کہتے کہ الٰہی  ہمیں اپنے غضب سے غارت نہ کر اور اپنے عذاب سے ہمیں ہلاک نہ کر اس سے پہلے ہمیں عافیت دے۔(احمد،ترمذی)ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎ رعد اس فرشتہ کا نام ہے جوبادلوں پرمقرر ہے اور صاعقہ اس کاکوڑا ہےجس سے وہ بادلوں کو ہانکتا چلاتاہے،کبھی اس کوڑے کی آواز سنی جاتی ہے۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رعد فرشتہ اس وقت تسبیح کرتا ہے،یہ آواز اس کی تسبیح کی ہوتی ہے،اس آواز پر سارے فرشتے تسبیح میں مشغول ہوجاتے ہیں،ہم کوبھی اس وقت سارے کام وکلام بندکرکے ذکرکرنا چاہیے۔مرقاۃ نے فرمایا رعد سننے میں آتی ہے اور صاعقہ دیکھنے میں،لہذا یہاں سننے سے مراد احساس فرمانا ہے،حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔ خیال رہے کہ صاعقہ کے معنی ہیں بے ہوش ہونے والی چیز،چونکہ اس گرج چمک سےبھی کبھی لوگ بےہوش ہوجاتے ہیں اس لیے صاعقہ کہاجاتا ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1522 -[12]

عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ تَرَكَ الْحَدِيثَ وَقَالَ: سُبْحَانَ الَّذِي يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ من خيفته. رَوَاهُ مَالك

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن زبیر سے کہ جب آپ گرج سنتے توبات چیت چھوڑ دیتے اور کہتے پاک ہے وہ کہ گرج جس کی تسبیح وحمدکرتی ہے اور فرشتے اس کے خوف سے ۱؎ (مالک)

۱؎ یعنی اﷲ کے خوف سے یا رعدفرشتے کے خوف سےتسبیح کرنے لگتے ہیں۔حضرت عبداﷲ ابن عباس فرماتے ہیں کہ جوشخص گرج کے وقت یہ آیت پڑھ لے وہ بفضلہٖ تعالٰی اس سے ہلاک نہیں ہوسکتا،اگر ہلاک ہوجائے تو اس کا خون بہا میرے ذمہ ہے،گویا آپ کوحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس قدر اعتمادتھا۔(مرقاۃ)


 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html