$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1515 -[5]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَتِ السَّنَةُ بِأَنْ لَا تُمْطَرُوا وَلَكِنِ السَّنَةُ أَنْ تُمْطَرُوا وَتُمْطَرُوا وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے ابو ہریرہ سے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قحط سالی یہ نہیں کہ تم پر بارش نہ ہو لیکن قحط یہ ہے کہ تم پر بارش ہو اور خوب بارش ہو مگر زمین کچھ نہ اگائے ۱؎(مسلم)

۱؎ یعنی سخت قحط یہ ہے کہ باوجود بارش کے پیداوار نہ ہو کہ آس کے بعد یاس سخت ہوتی ہے اور اس سے سخت قحط وہ ہے کہ پیداوار بھی خوب پھر انتہائی مہنگائی ہو جیساکہ بعض احادیث میں ہے،آج کل یہ تیسری قسم کا قحط ہے اللہ کرم کرے،پیداوار نہ ہونے کی بہت صورتیں ہیں،زمیں کچھ آگائے ہی نہیں،آگائے مگر برباد ہوجائے،درخت ہوں مگر پھل نہ لگے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1516 -[6]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الرِّيحُ مِنْ روح الله تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ وَ بِالْعَذَابِ فَلَا تَسُبُّوهَا وَسَلُوا اللَّهَ مِنْ خَيْرِهَا وَعُوذُوا بِهِ مِنْ شَرِّهَا» . رَوَاهُ الشَّافِعِي وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ہوا اللہ کی رحمت ہے رحمت بھی لاتی ہے عذاب بھی لہذا اسے برانہ کہو ۱؎ اللہ سے اس کی خیر مانگو اور اس کی شر سے اللہ کی پناہ مانگو۲؎ (شافعی،ابوداؤد،ابن ماجہ،بیہقی، دعوات کبیر)

۱؎  یعنی اگر کبھی ہوا سے کوئی نقصان یا تکلیف پہنچے تو ہوا کو گالیاں نہ دو کیونکہ وہ تو حکم الٰہی  سے سب کچھ لاتی ہے۔خیال رہے کہ ہوا رحمت ہے مگر کافروں پر عذاب لاتی ہے،مؤمنوں کے لیے رحمت ہے،ایسے غافلوں کی گو شمالی کرتی ہے یہ بھی رحمت ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب ہوا رحمت ہے تو عذاب کیوں لاتی ہے۔

۲؎  ہوائیں آٹھ ہیں:چار رحمت کی۔ناشرات،ذاریات،مرسلات،مبشرات اور چار عذاب کی۔عاصف،قاصف،صرصر،عقیم،پہلی دو سمندروں میں عذاب کی ہیں،آخری دو خشکی میں۔(مرقاۃ)

1517 -[7]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا لَعَنَ الرِّيحَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَا تَلْعَنُوا الرِّيحَ فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ وَأَنَّهُ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ ایک شخص نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوا پرلعنت کی تو فرمایا ہوا پرلعنت نہ کرو یہ تو زیر فرمان ہے اور جوکسی ایسی چیزکو لعنت کرے جو ان کے لائق نہ ہوتو لعنت خود کرنے والے پرلوٹتی ہے ۱؎(ترمذی)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎ یعنی ہوا لعنت کی مستحق نہیں،اب جو اس پر لعنت کرے گا تو وہ لعنت خود اس کی اپنی ذات پر پڑے گی۔اس سے معلوم ہوا کہ جانوروں پر لعنت یا زمانہ کو بُرا کہنا جیساکہ مولوی محمود حسن صاحب نے کہا سب ناجائز ہے۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html