Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1513 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَصَفَتِ الرِّيحُ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ» وَإِذَا تَخَيَّلَتِ السَّمَاءُ تَغَيَّرَ لَونه وحرج وَدَخَلَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ فَعَرَفَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ فَسَأَلَتْهُ فَقَالَ: " لَعَلَّهُ يَا عَائِشَةُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ: (فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا: هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا) وَفِي رِوَايَةٍ: وَيَقُولُ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ «رَحْمَةً»

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ جب تیز ہوا چلتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرض کرتے الٰہی  میں تجھ سے ہوا کی خیر اور جو اس ہوا میں ہے اس کی خیر اور جو چیز ہوا لے کر بھیجی گئی اس کی خیر مانگتا ہوں ۱؎ اور ہوا کے شر اور جو اس میں ہے اس کے شر سے اور جو لےکر ہوا بھیجی گئی اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جب آسمان ابر آلود ہوتا آپ کا رنگ بدل جاتا باہر جاتے اندر آتے سامنے آتے پیچھے جاتے جب مینہ برستا تویہ کیفیت دور ہوتی حضرت عائشہ نے پہچان لیا تو اس کے بارے میں حضور سے پوچھا فرمایا اے عائشہ شاید یہ ایسا ہی ہو جیسا قوم عاد نے کہا تھا کہ جب جنگلوں کی طرف بادل آتے دیکھا تو بولے یہ ہم پر برسنے والا بادل ہے۲؎ اور ایک روایت میں ہے جب بارش دیکھتے تو فرماتے خدایا رحمت ہو۔(مسلم،بخاری)

۱؎ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے آندھی کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے۔اب بھی پڑھنی چاہیئے،یعنی اے مولیٰ! میں اس ہوا کی عمومی بھلائی بھی مانگتا ہوں اورخصوصی بھلائی بھی اور اس کے عمومی اورخصوصی شر سے تیری پناہ مانگتاہوں۔

۲؎ یعنی اے عائشہ! رب پر امن نہ چاہیے،ہمیشہ اس سے ڈرتے رہنا چاہیے،بادل کبھی عذاب بھی لاتا ہے،قوم عاد پر عذاب بادل ہی کی شکل میں آیا تھا۔خیال رہے کہ اﷲ کی ہیبت قوتِ ایمانی کی دلیل ہے اور اﷲ کے وعدوں پر بے اطمینانی کفار کا طریقہ ہے اور سخت کفر ہے،یوں ہی خدا سے امید ایمان کارکن ہے،خدا پرامن کفر ہے،یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی قسم کا خوف ہوتا تھا یعنی ہیبت خدائے تعالی۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگرچہ رب تعالٰی نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ فرمالیا تھا کہ تمہارے ہوتے کافروں پربھی عذاب نہ آئے گامگرحضورصلی اللہ علیہ وسلم کو اس وعدے پر اطمینان نہ تھا اس لیے ڈرتے تھے کہ کہیں رب نے وعدہ خلافی کی ہو اور عذاب بھیج دیا ہوجیسا کہ بعض احمقوں نے یہ سمجھا۔

1514 -[4]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ ثُمَّ قَرَأَ: (إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ)الْآيَة. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ غیب کی کنجیاں پانچ ہیں ۱؎ پھر یہ آیت تلاوت کی کہ اﷲ کے پاس ہی قیامت کا علم وہی بارش برستا ہے۔الایہ(بخاری)

۱؎ یہاں اس آیت کی طرف اشارہ ہے "وَعِنۡدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیۡبِ لَایَعْلَمُہَاۤ اِلَّاہُوَ"۔اس آیت کی تحقیق مرآت کے شروع میں کی جاچکی ہے،نیز ہماری تفسیر "نور العرفان" میں ملا حظہ کرو۔یعنی یہ پانچ چیزیں کہ قیامت کب ہوگی،بارش کب آئے گی،عورت کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی،کہاں مرے گا،کل کیا کرے گا یہ غیب کی کنجیاں ہیں جن سے ہزارہا غیب کا پتہ چلتا ہے،یہ چیز اندازے،حساب وغیرہ کسی عقلی علم سے معلوم نہیں ہوسکتیں صرف رب تعالٰی جانتا ہے یا جسے وہ بتائے وہ جانتاہے اسی لیے انہیں مفاتیح فرمایا گیا یعنی چابیاں۔ اور ظاہر ہے کہ قفل وچابی میں وہ چیزیں رکھی جاتی جسے کھول کرکسی کو دینا ہو ورنہ دفن کی جاتی ہے۔رب تعالٰی نے یہ علوم بعض فرشتوں، انبیاء،اولیاء کو بخشے۔

 



Total Pages: 519

Go To