$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب فی الریاح

ہواؤں کاباب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  ریاح ریح کی جمع ہے جو روح سے بنا،بمعنی رحمت،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَاتَایۡـَٔسُوۡامِنۡ رَّوْحِ اللہِ"۔چونکہ ہوا خود بھی رحمت ہے اور ہزارہا رحمتوں کا ذریعہ اس لیے اسے ریح کہتے ہیں۔قرآن شریف میں اکثر قہر کی ہوا کو ریح اور رحمت کی ہوا کو ریاح کہا گیا ہے۔

1511 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَاد بالدبور»

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پروا کے ذریعے میری مدد کی گئی اوربچھوا کے ذریعہ قوم عاد ہلاک کی گئی ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ صبا وہ ہوا ہے جومشرق سےمغرب کو چلے،یہ تیز ہوتی ہے اکثر بارش لاتی ہے۔اور دبورہوا وہ ہے جومغرب سے مشرق کو جائے،یہ گرم وخشک ہوتی ہے،زمین کو خشک کرتی ہے اور اکثر بادل کو پھاڑ دیتی ہے،بارش کو دورکرتی ہے۔غزوہ خندق میں جب سارے کفارعرب نے مدینہ پاک کوگھیر لیا تھا تو ایک رات پروا ہوا تیز چلی جس سے کفار کے خیمے اڑ گئے،دیگچیاں ٹوٹ گئیں،جانور بھاگ گئے،ان کے منہ مٹی ریت سے بھرگئے آخر کار سب کو بھاگنا پڑا۔اہل مدینہ کو امن ملی اورہود علیہ السلام کی قوم عادبچھوا سے ہلاک ہوئی،اس حدیث میں اسی جانب اشارہ ہے۔غرضکہ ہوا وپانی کفار کے لیے عذاب،مومن کے لیے رحمت ہوجاتے ہیں،دریا نیل کا پانی قبطیوں پر عذاب،سبطیوق پر رحمت تھا۔

1512 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ إِنَّمَا كَانَ يتبسم فَكَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا عُرِفَ فِي وَجهه

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح ہنستا نہ دیکھا کہ آپ کے جبڑے شریف دیکھ لیتی ۱؎ آپ صرف مسکرایا کرتے تھے آپ جب بادل یا ہوا دیکھتے تو آپ کے چہرے میں اثر خوف معلوم ہوتا۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ لَھْوَات لُھَات کی جمع ہے۔لہات زبان کی جڑ کوبھی کہتے ہیں،حلق میں ابھرے ہوئے گوشت کوبھی،جبڑے کے آخری کنارے کوبھی،یعنی آپ ایسا کبھی نہ ہنسے جس سے آپ کا منہ مبارک کھل جاتا۔

۲؎ یعنی بادل یا تیز ہوا ہونے پرحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ انور پرخوف کے آثار ظاہرہوتے کہ ایسا نہ ہوکہ آندھی یا بارش سے لوگوں کو نقصان پہنچے جس قدر رب تعالٰی سے قرب زیادہ اسی قدر خوف زیادہ۔

1513 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَصَفَتِ الرِّيحُ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ» وَإِذَا تَخَيَّلَتِ السَّمَاءُ تَغَيَّرَ لَونه وحرج وَدَخَلَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ فَعَرَفَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ فَسَأَلَتْهُ فَقَالَ: " لَعَلَّهُ يَا عَائِشَةُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ: (فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا: هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا) وَفِي رِوَايَةٍ: وَيَقُولُ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ «رَحْمَةً»

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ جب تیز ہوا چلتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرض کرتے الٰہی  میں تجھ سے ہوا کی خیر اور جو اس ہوا میں ہے اس کی خیر اور جو چیز ہوا لے کر بھیجی گئی اس کی خیر مانگتا ہوں ۱؎ اور ہوا کے شر اور جو اس میں ہے اس کے شر سے اور جو لےکر ہوا بھیجی گئی اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جب آسمان ابر آلود ہوتا آپ کا رنگ بدل جاتا باہر جاتے اندر آتے سامنے آتے پیچھے جاتے جب مینہ برستا تویہ کیفیت دور ہوتی حضرت عائشہ نے پہچان لیا تو اس کے بارے میں حضور سے پوچھا فرمایا اے عائشہ شاید یہ ایسا ہی ہو جیسا قوم عاد نے کہا تھا کہ جب جنگلوں کی طرف بادل آتے دیکھا تو بولے یہ ہم پر برسنے والا بادل ہے۲؎ اور ایک روایت میں ہے جب بارش دیکھتے تو فرماتے خدایا رحمت ہو۔(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html