Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

آیت پڑھی تھی"ادْعُوۡنِیۡۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْ"۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جوکہتے ہیں کہ انبیاءواولیاء کے وسیلہ کی کوئی ضرورت نہیں اپنے اعمال کا وسیلہ پکڑو گویا ان کےنزدیک ان کے اعمال حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مقبول ہیں۔

۲؎ کہ فلاں دن تم سب وہاں جمع ہوکر جاؤ ہم بھی پہنچ جائیں گے،شاید قبولیت کی گھڑی اسی دن میں ہوگی جیسے کہ یعقوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے فرمایا تھا"سَاَسْتَغْفِرُلَکُمْ"یعنی تمہارےلیئے دعائے مغفرت ابھی نہیں پھر کروں گا۔

۳؎ لہذا تم میرے وسیلہ سے دعا کررہے ہو میں تمہارےلیئے دعا اور شفاعت کرتا ہوں اسی لیے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن یوں نہیں فرمادیا کہ جاؤ خود دعائیں مانگ لومیرے پاس کیوں آئے۔

۴؎ اس سےمعلوم ہوا کہ دعا سے پہلے اﷲ کی حمد اپنی فقیری اورنیازمندی کا اظہارسنت ہے۔خیال رہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم بارگاہ الٰہی  میں اپنےلیئے جوکلمے چاہیں استعمال کریں لیکن اگرکوئی اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم کو فقیر کہے تو کافر ہوگا۔(عالمگیری)حضورصلی اللہ علیہ وسلم تو وہ غنی داتا ہیں جن کی گلیوں میں تاجدار بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔شعر

اس گلی کاگدا ہوں میں جس میں                                 مانگتے تاجدار پھرتے ہیں

وہ تو باذن اﷲ غنی ہیں،غنی گر ہیں۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ"۔رب سے مانگنا بندے کی شان ہے،اس کے سب فقیر ہیں۔

۵؎ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے آج خطبہ اور دعا پہلے پڑھی اورنماز بعدمیں۔غالبًا اس لیے کہ جب آپ جنگل پہنچتے ہیں تو سورج نکل رہا تھا وقت مکروہ تھا ورنہ خطبۂ استسقاء اور دعا نماز کے بعد ہوتی ہے جیساکہ گزشتہ روایات سےمعلوم ہوا۔

۶؎  ہنسنے سے مراد تبسم اورمسکرانا ہے نہ ٹھٹھا مارنا اور قہقہ کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم قہقہہ مارکرکبھی نہ ہنسے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تبسم خوشی اورتعجب کا تھاکہ ابھی تو یہ لوگ بارش مانگ رہے تھے جب آئی تو بھاگ رہے ہیں۔نواجذ جمع نواجذہ کی ہے۔ناجذہ دانتوں کی کیلوں کوبھی کہتے ہیں اور آخری داڑھ کوبھی یعنی عقل داڑھ۔

۷؎ معلوم ہوا کہ بارش حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھی اور آپ کی نبوت کی دلیل،یعنی آج حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نبوت صحابہ کو آنکھوں سے دکھادی اس کی عینی گواہی دی اور دلوائی۔

1509 -[13]  

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ إِذْ قحطوا استسقى بالبعاس بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا. قَالَ: فَيُسْقَوْنَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

روایت ہے حضرت انس سے کہ جب لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تو حضرت عمر ابن خطاب جناب عباس ابن عبدالمطلب کے توسل سے دعائے بارش کرتے ۱؎ اور عرض کرتے الٰہی  ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی کا وسیلہ پکڑتے تھے تو بارش بھیجتا تھا اور اب ہم تیرے نبی کے چچا کا وسیلہ پکڑتے ہیں۲؎ ہم پر بارش بھیج تو لوگ سیراب کیئے جاتے تھے۳؎(بخاری)

۱؎ تاکہ معلوم ہوکہ صرف نبی کا ہی وسیلہ نہیں ہوتا بلکہ ان کی امت کے اولیاء کا وسیلہ بھی ہوسکتا ہے،ان کی برکت سے رحمتیں آتی ہیں،حضرت عمر جناب عباس کا وسیلہ اس طرح لیتے کہ ان کے توسل سے بارگاہ الٰہی  میں دعا کرتے جیساکہ آگے آرہا ہے اورحضرت عباس



Total Pages: 519

Go To