$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

الفصل الثالث

تیسری فصل

1508 -[12]

عَن عَائِشَة قَالَتْ: شَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُحُوطَ الْمَطَرِ فَأَمَرَ بِمِنْبَرٍ فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَكَبَّرَ وَحَمِدَ اللَّهَ عزوجل ثُمَّ قَالَ: «إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ دِيَارِكُمْ وَاسْتِئْخَارَ الْمَطَرِ عَنْ إِبَّانِ زَمَانِهِ عَنْكُمْ وَقَدْ أَمَرَكُمُ الله عزوجل أَنْ تَدْعُوهُ وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ» . ثُمَّ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ملك يَوْمِ الدِّينِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ. أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ» ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمْ يَتْرُكِ الرَّفْعَ حَتَّى بَدَا بَيَاضُ إِبِطَيْهِ ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ وَقَلَبَ أَوْ حَوَّلَ رِدَاءَهُ وَهُوَ رَافِعُ يَدَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ وَنَزَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابَةً فَرَعَدَتْ وَبَرَقَتْ ثُمَّ أَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللَّهِ فَلَمْ يَأْتِ مَسْجِدَهُ حَتَّى سَالَتِ السُّيُولُ فَلَمَّا رَأَى سُرْعَتَهُمْ إِلَى الْكن ضحك صلى الله عَلَيْهِ وَسلم حَتَّى بَدَت نَوَاجِذه فَقَالَ: «أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ لوگوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش رک جانے کی شکایت کی ۱؎ تو منبر کا حکم دیا جوعیدگاہ میں بچھادیا گیا اور لوگوں سے ایک دن کا وعدہ کیا جب لوگ نکلیں۲؎ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج کا کنارہ چمکا تو تشریف لے گئے منبر پر بیٹھے اﷲ کی تکبیر و حمد کی پھر فرمایا کہ تم لوگوں نے اپنے شہر کے قحط کی بارش کے وقت سے ہٹ جانے کی شکایت کی اﷲ نے تمہیں دعا مانگنے کا حکم دیا اور تم سے دعا کی قبولیت کا وعدہ کیا۳؎ یعنی فرمایا تمام تعریفیں اﷲ رب العلمین کی ہیں جو مہربان رحم والا ہے قیامت کے دن کا مالک ہے اﷲ کے سواءکوئی معبودنہیں تو بے پروا ہے ہم فقیر ہیں ہم پر بارش برسا اور جو تو اتارے اسے ہمارےلیئے قوۃ اور مطلوب تک پہنچنےکا ذریعہ بنا۴؎ پھر اپنے ہاتھ اٹھائے تو اٹھاتے رہے حتی کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی ظاہرہوگئی پھرلوگوں کی طرف اپنی پشت کی اور اپنی چادرپلٹی حالانکہ ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے پھرلوگوں پرمتوجہ ہوئے منبرسے اترے دو رکعتیں پڑھیں۵؎ اﷲ نے ایک بادل پیدا کیا جو اﷲ کے حکم سےگرجاچمکا پھر برسا آپ مسجد تک نہ آنے پائے تھے کہ سیلاب بہہ گئے جب حضور نے لوگوں کو پناہ کی طرف دوڑتے دیکھا تو ہنسے حتی کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے۶؎ پھر فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ ہر چیز پرقادر ہے اور میں اﷲ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۷؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی بارش کا زمانہ ہے اورنہیں آتی۔اس سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ قحط کی شکایت حضورصلی اللہ علیہ وسلم سےکرسکتے ہیں تاکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم سفارش کریں اور ہماری بگڑی بن جائے،رب تعالٰی خودحضورصلی اللہ علیہ وسلم سے بندوں کی شکایت کرتا ہے، فرماتا ہے:"اُنۡظُرْکَیۡفَ ضَرَبُوۡا لَکَ الۡاَمْثَالَ"۔دوسرے یہ کہ صحابہ کبارحضورصلی اللہ علیہ وسلم کو بارگاہِ الٰہی  میں اپنا بڑا وسیلہ جانتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ ہمارے اعمال کی مقبولیت یقینی نہیں حضورصلی اللہ علیہ وسلم یقینًا مقبول ہیں،اسی لیے وہ ایسےموقعوں پر خود نمازیں اور دعائیں ادا نہ کرلیتے تھے بلکہ دوڑے ہوئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آتے تھے،حالانکہ انہوں نے قرآن میں یہ



Total Pages: 519

Go To
$footer_html