Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1505 -[9]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فِي الِاسْتِسْقَاءِ مُتَبَذِّلًا مُتَوَاضِعًا مُتَخَشِّعًا مُتَضَرِّعًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے بارش کےلیئے سادہ کپڑے زیب تن کیے عاجزی کر تے تواضع اور زاری کرتے تشریف لے گئے ۱؎(ترمذی، ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)

۱؎ یعنی استسقاء کےلیئے دولت خانہ شریف سے نکلتے وقت یہ حال تھا کہ لباس عاجزانہ تھا،زبان پرالفاظ انکسار کے تھے یعنی متواضع دل میں خشوع خضوع تھا(متخشع)،ذکر الٰہی  میں مشغول تھے،آنکھیں تر تھیں(متضرع)۔اب بھی صفت یہی ہے کہ استسقاء کےلیئے جاتے وقت امیربھی فقیرانہ لباس پہن کر جائیں کہ بھکاریوں کی وردی یہی ہے،راستہ میں یہ سارے کام کرتے ہوئے جائیں ان شاءاﷲ دعا ضرور قبول ہوگی۔

1506 -[10]

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَسْقَى قَالَ: «اللَّهُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ وَبَهِيمَتَكَ وَانْشُرْ رَحْمَتَكَ وَأَحْيِ بَلَدَكَ الْمَيِّتَ» . رَوَاهُ مَالك وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش کی دعا کرتےتو کہتے الٰہی  اپنے بندوں اپنے جانوروں کو سیراب کر اپنی رحمت پھیلا دے اپنے مردہ شہرکو زندہ کردے ۱؎(مالک،ابوداؤد)

۱؎ اگرچہ بندوں میں جانوربھی داخل تھے،مگر چونکہ یہ بے گناہ ہیں ہم گنہگار،ان کی بے گناہی سے ہم پر رحمتیں آتی ہیں ہمارے گناہوں سے انہیں تکلیف ہوتی ہے اس لیے خصوصیت سے ان کا ذکر کیا۔رحمت پھیلانے سے مرادجنگل کو ہرا بھراکردیناہے اورمردہ شہرکو زندہ کرنے سے مراد خشک زمین کو ترکرناہے کہ کنوئیں پانی سے بھر جائیں،تالاب لبریز ہوجائیں۔سبحان اﷲ! کیا جامع دعا ہے۔

1507 -[11]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَاكِئُ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا مُرِيعًا نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ» . قَالَ: فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتےہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ اٹھائے دیکھا ۱؎ فرماتے تھے الٰہی  ہمیں ایسے بادل سے سیراب کر جوسیرکرنے والا نقصان نہ دینے والا،فراخی پیداکرنے والا،نفع بخش غیر مضرہوفورًا آئے دیر نہ ہوفرمایا کہ فورًا ہی ان پر آسمان گھر گیا۲؎(ابوداؤد)

۱؎ مواکات،تو کع،اتکاء یہ سب ایک ہی ماہ سے بنے ہیں،جس کے معنی ہیں اعتمادکرنا،ٹیک لگانا،اٹھانا،پھیلانا،یہاں آخری دومعنی میں ہے یعنی آپ ہاتھ اٹھائے اور پھیلائے ہوئے تھے۔

۲؎ یہ ہے دعائےمحبوبانہ اور وہ ہے قبولیت حبیبانہ،محبوب نے کہابارش میں دیر نہ لگے،چاہنے والے رب نے فرمایا کہ فورًا لو۔جن احادیث میں ہے کہ انسان دعا میں جلدی نہ کرے وہاں عبدیت کی تعلیم ہےیا یہ مطلب ہے کہ ظہور قبولیت میں اگر دیر لگے تو دعا سے بد دل نہ ہو اور لوگوں سے رب کی شکایت نہ کرےلہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔

 



Total Pages: 519

Go To