Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1502 -[6]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى فَاسْتَسْقَى وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَجَعَلَ عِطَافَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ وَجَعَلَ عِطَافَهُ الْأَيْسَرَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ دَعَا الله. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن زید سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ تشریف لے گئے اور وہاں دعائے بارش کی اور جب قبلہ رو ہوئے تو اپنی چادر پلٹی کہ اس کا دایاں کنارہ اپنے بائیں کندھے پر ڈال دیا اور بایاں کنارہ دائیں کندھے شریف پر پھر اﷲ سے دعا کی ۱؎ (ابوداؤد)

۱؎  اس حدیث میں صرف دو کاموں کا ذکر ہے:نیک فال کےلیئے اپنی اوڑھی ہوئی چادر الٹی کرنا تاکہ موسم کا حال الٹا ہوجائے،خشکی جائے تری آئے،گرانی جانے ارزانی آئے۔دوسرے دعا مانگنا۔معلوم ہوا کہ آپ نے نماز استسقاء نہ پڑھی،لہذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ استسقاء میں نمازشرط نہیں صرف دعا سےبھی ہوسکتاہے۔

1503 -[7]

وَعَن عبد الله بن زيد أَنَّهُ قَالَ: اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ فَأَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ أَسْفَلَهَا فَيَجْعَلَهُ أَعْلَاهَا فَلَمَّا ثَقُلَتْ قَلَبَهَا عَلَى عَاتِقَيْهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ

روایت ہے انہی سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے بارش کی آپ پر کالاکمبل تھا آپ نے چاہا کہ اس کا نچلا حصہ لےکر اوپرکرلیں جب یہ بھاری پڑا تو اسے اپنے کندھوں پرہی لیا ۱؎(احمد،ابوداؤد)

۱؎ اس حدیث کی بناء پرعلماء فرماتے ہیں کہ اگر چادر فراخ ہوتو اس طرح پلٹے کہ نچلاحصہ اوپرکرے اور اگرتنگ ہوتو صرف دایاں کنارہ ہی بائیں طرف ڈال لے۔خیال رہے کہ چادر پلٹنا صرف امام کا کام ہے مقتدی یہ نہ کریں گے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اس کا حکم نہ دیا اور نہ انہوں نے یہ کام کیا۔مرقاۃ نے فرمایا کہ دوسرے خطبہ میں چادر الٹے اور اگر نمازوخطبہ ادا نہیں کیا ہے تو دعا میں۔

1504 -[8]

وَعَن عُمَيْر مولى آبي اللَّحْم أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ قَرِيبًا مِنَ الزَّوْرَاءِ قَائِمًا يَدْعُو يَسْتَسْقِي رَافِعًا يَدَيْهِ قِبَلَ وَجْهِهِ لَا يُجَاوِزُ بِهِمَارَأْسَهُ.رَوَاهُ أَبُودَاوُدَ وروى التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ نَحوه

روایت ہے حضرت عمیر سے جو کہ آبی اللحم کے مولیٰ ہیں ۱؎ کہ انہوں نے زوراء کے قریب احجارالزیت کے پاس رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعائے بارش کرتے دیکھا ۲؎ آپ کھڑے ہوئے دعائیں کررہے تھے،اپنے چہرہ مبارک کے سامنے ہاتھ اٹھائے بارش مانگ رہے تھے ان ہاتھوں کو سر سے اونچا نہ کرتے۳؎ (ابوداؤد)اور ترمذی و نسائی نے اس کی مثل روایت کی۔

۱؎ آبی اللحم کا نام عبداﷲ ابن عبدالملک ہے،چونکہ یہ زمانۂ جاہلیت میں بھی بتوں کے نام ذبیحہ کا گوشت نہیں کھاتے تھے اس لیے آپ کا لقب آبی اللحم ہوا یعنی اس گوشت کے انکاری،آپ بڑے پرانے صحابی ہیں،غزوہ حنین میں شہید ہوئے،عمیر آپ کے آزادکردہ غلام ہیں،یہ دونوں حضرات صحابی ہیں۔

۲؎ احجارالزیت مدینہ منورہ کے حرّہ کا ایک حصہ ہے،چونکہ وہاں کے پتھر کالے چکنے اورچمکدارہیں گویا ان پرتیل مل دیا گیاہے اس لیے اسے احجارالزیت کہتےہیں یعنی تیل ملے ہوئے پتھر۔زوراء کی تحقیق باب الجمعہ میں ہوچکی۔

۳؎ یعنی اس وقت نماز نہ پڑھی،صرف دعا مانگی اور ہاتھ سر کے مقابل رکھے۔خیال رہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ہاتھ مبارک سر کے برابر رکھے ہیں، کبھی سر سےبھی اونچے اٹھائے ہیں،لہذا یہ حدیث سر سے اونچے اٹھانے کی حدیث کے خلاف نہیں کہ کبھی وہ عمل تھا کبھی یہ۔

 



Total Pages: 519

Go To