Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ یہاں ہاتھ اٹھانے کی نفی نہیں بلکہ سر سے اونچے ہاتھ اٹھانے کی نفی ہے جیساکہ آگے آرہا ہے یعنی اور دعاؤں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سینے تک ہاتھ اٹھاتے تھے اور اس دعا میں سر سے اونچے۔

۲؎ یعنی اگر چادر یا قمیص نہ پہنے ہوتے تو بغل شریف کی سفیدی دیکھی جاتی لہذا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ بغیر قمیص نماز پڑھاتے تھے۔

1499 -[3]

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقَى فَأَشَارَ بِظَهْرِ كَفَّيْهِ إِلَى السَّمَاءِ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کی دعا کی تو اپنے ہاتھوں کی پشت سے آسمان کی طرف اشارہ کیا ۱؎(مسلم)

۱؎ یعنی سر سے اونچے ہاتھ اٹھائے جن کی ہتھیلی زمین کی طرف رکھی کہ خدایا بادل کا پیٹ زمین کی طرف کردے تاکہ وہ اپنا پانی اس پر بہائے۔ظاہر یہ ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ساری دعا یونہی مانگی۔بعض کا خیال ہے کہ پہلے ہتھیلیاں آسمان کی طرف کرے،پھر زمین کی طرف۔مرقات ولمعات وغیرہ میں ہے کہ رحمت مانگنے کےلیئے ہتھیلیاں آسمان کی طرف کرے اور بلاؤ آفت ٹالنے کےلیئے زمین کی طرف،چونکہ اس دعا میں بلاؤ قحط ٹالنےکی درخواست ہوتی ہے اس لیے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا مانگی۔

1500 -[4]

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ قَالَ: «اللَّهُمَّ صيبا نَافِعًا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش دیکھتے تو عرض کرتے برسا اور اسے نفع بخش ۱؎

۱؎ صَیِّبٌ صوبٌ سے بنا،بمعنی بہنا،اصل صیوب تھا،مبالغہ کا صیغہ ہے،یعنی خدایا بہنے والا بہت پانی برسا اور اسے نفع بخش بنا کیونکہ محض بونداباندی سے زمین سیرنہیں ہوتی اورمضرپانی سےسیلاب آجاتےہیں۔

1501 -[5]

وَعَن أنس قَالَ: أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطَرٌ قَالَ: فَحَسَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ مِنَ الْمَطَرِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ قَالَ:«لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بربه». رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بارش برسی فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا شریف ہٹادیا تا آنکہ آپ پر کچھ بارش پڑگئی ہم نے عرض کیا یارسول اﷲ آپ نے یہ کیوں کیا فرمایا کہ یہ ابھی اپنے رب کے پاس سے آئی ہے ۱؎ (مسلم)

۱؎ یعنی اپنا سر اور سینہ مبارک کھول کر کچھ قطرے ان اعضاء پرلیئے اور وجہ یہ بیان فرمائی کہ یہ پانی ابھی عالَم قدس سے آیا ہے،جس میں اِس عالَم کے اجزاء ابھی تک نہیں ملے،لہذا برکت والا ہے اس سے برکت حاصل کرو۔بعض حضرات حج سے آنے والوں کے ہاتھ پاؤں چومتے ہیں اور انکے بدن سے اپنے کپڑے لگاتے ہیں،بعض صوفیاء بیماروں کےلیئے نقش لکھ کر بارش کے پانی سے دھلواکر پلواتے ہیں،ان سب کی اصل یہ حدیث ہے،بارش کے وقت اور کعبہ کو دیکھ کر دعا مانگنا سنت ہے۔

1502 -[6]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى فَاسْتَسْقَى وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَجَعَلَ عِطَافَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ وَجَعَلَ عِطَافَهُ الْأَيْسَرَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ دَعَا الله. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن زید سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ تشریف لے گئے اور وہاں دعائے بارش کی اور جب قبلہ رو ہوئے تو اپنی چادر پلٹی کہ اس کا دایاں کنارہ اپنے بائیں کندھے پر ڈال دیا اور بایاں کنارہ دائیں کندھے شریف پر پھر اﷲ سے دعا کی ۱؎ (ابوداؤد)

 



Total Pages: 519

Go To