$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب الاستسقاء

بارش مانگنے کاباب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  استسقاء کےمعنی ہیں بارش یا سیرابی مانگنا۔شریعت میں دعائے بارش کو استسقاءکہتے ہیں جوضرورت کے وقت کی جائے۔استسقاءکی تین صورتیں ہیں:صرف دعائے بارش کرنا، نوافل پڑھ کر دعاکرنا،باقاعدہ جنگل میں جاکرنماز باجماعت پڑھنا بعد نماز خطبہ اور بعدخطبہ دعا مانگنا،چادر الٹی کرنا یہ تینوں طریقےحضورصلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں،یہ نماز تین دن تک پڑھی جائے۔خیال رہے کہ حضرت امام اعظم نےنماز استسقاء کا انکارنہیں کیابلکہ حصر کا انکار کیا ہے کہ استسقاءصرف نماز سے ہی نہیں ہوتا اور دوسرے طریقے سےبھی ہوتاہے۔

1497 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ يَدْعُو وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ

روایت ہےحضرت عبداﷲ ابن زید سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو دعائے بارش کےلیئےعیدگاہ لے گئے تو انہیں دو رکعتیں پڑھائیں جن میں آواز سے قرأت کی اور دعا مانگتے ہوئے قبلہ رو ہوئے اپنے ہاتھ اٹھائے اور جب قبلہ کو منہ کیا تو اپنی چادر الٹی۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یہ عبداﷲ ابن زیاد ابن عاصم ابن مازنی انصاری ہیں،خودبھی صحابی ہیں اور والدین بھی صحابی،آپ بدرمیں شریک نہ تھے، احد میں تھے، آپ نے وحشی کے ساتھ مل کر مسیلمہ کذاب کو قتل کیا،یہ عبداﷲ ابن زیاد ابن عبدربہ نہیں ہیں جنہوں نے اذان خواب میں دیکھی تھی،وہ بھی انصاری ہیں مگر وہ بیعت عقبہ اورجنگ بدر وغیرہ میں شریک ہوئے۔(مرقاۃ)

۲؎ اس سےمعلوم ہوا کہ نماز استسقاءنمازعید کی طرح جنگل میں پڑھی جائےباجماعت،اس میں قرأت بلند آوازسےہو۔بہتر یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورۂ قٓ اور دوسری میں غاشیہ پڑھی جائے بعدمیں خطبہ ہو،پھرقبلہ رخ ہوکر دعا مانگی جائے اور دعا میں اپنی چادر الٹی کی جائے کہ خدایا جیسے چادر کا رخ بدل گیا ایسے ہی موسم کا رخ بدل دے۔یہ تمام چیزیں سنت ہیں،ہاں سنت مؤکدہ نہیں کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی یہ نماز ادا کی ہے،کبھی صرف دعامانگی۔امام اعظم کے سنیت سے انکاری کابھی یہی مطلب ہے۔خیال رہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی چادرشریف چارگزلمبی اور دوگز ایک بالشت چوڑی تھی۔جن روایات میں آیا ہے کہ آپ نے رکعت اول میں سات تکبیریں کہیں اور دوسری میں پانچ وہ سب ضعیف ہیں کیونکہ ان سب میں محمد ابن عبدالعزیز ابن عمر ابن عبدالرحمن ابن عوف ہے جسے بخاری نے منکر حدیث فرمایا اور نسائی نے متروک الحدیث کہا،ابوحاتم نے ضعیف الحدیث قرار دیااسی لیے ان احادیث پرکسی نےعمل نہیں کیا، نمازاستسقاءکی ہر رکعت میں ایک ایک ہی تکبیر ہوگی دیگر نوافل کی طرح۔

1498 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ فَإِنَّهُ يَرْفَعُ حَتَّى يرى بَيَاض إبطَيْهِ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے سواکسی دعا میں بہت اونچے ہاتھ نہ اٹھاتے ۱؎ استسقاءمیں اس قدر ہاتھ اٹھاتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی جاتی۲؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html