Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1494 -[1]

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَهُ أَمْرٌ سُرُورًا أَوْ يُسَرُّ بِهِ خَرَّ سَاجِدًا شَاكِرًا لِلَّهِ تَعَالَى.رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هَذَا حَدِيثٌ حسن غَرِيب

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے فرماتے ہیں کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خوشی کی خبرپہنچتی یا آپ خوش ہوتے ۱؎ تو اﷲ تعالٰی کا شکر کرتے ہوئے سجدہ میں گر جاتے۲؎(ابوداؤد، ترمذی)ترمذی نے کہایہ حدیث حسن غریب ہے۔

۱؎  اس عبارت میں راوی کو شک ہے کہ صحابی نے "اَمْرٌ سُرُوْرًا"فرمایا یا "یَسُرُّبِہٖ"۔خیال رہے کہ سُرُوْرًا یا اَمْرٌ کی تمیز ہے یا اَغْنِیَ فعل پوشیدہ کا مفعول یا لام جارہ ہٹادیا گیا ہے،یعنی منصوب بنزع الخافض ہے،طلباءوعلماء اس کے زبر سے دھوکا نہ کھائیں۔

۲؎   چنانچہ ابوجہل کا سر آپ کی خدمت میں لایا گیا تو آپ سجدۂ شکر میں گر گئے۔

1495 -[2]

وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مِنَ النُّغَاشِينَ فَخَرَّ ساجا. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ مُرْسَلًا وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ لَفْظُ المصابيح

روایت ہے حضرت ابوجعفر سے ۱؎  کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقص الخلقت لوگوں میں سےکسی کو دیکھا تو آپ سجدے میں گرگئے ۲؎(دارقطنی)ارسالًا۳؎  شرح سنہ میں مصابیح کے الفاظ ہیں۔

۱؎   آپ کا نام محمد ابن علی ابن حسین ابن علی ابن ابی طالب ہے،کنیت ابوجعفر،لقب باقر ہے،یعنی آپ امام زین العابدین کے بیٹے ہیں،امام جعفر آپ کے بیٹے ہیں،آپ تابعی ہیں،حضرت جابر ابن عبداللہ سے ملاقات ہے،  ۵۶ھ؁  میں پیدائش اور  ۱۱۷ھ؁ میں وفات ہے،جنۃ البقیع میں دفن ہیں،فقیر آپ کے مزار پر حاضر ہوا۔

۲؎   خدایا تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے اعضاءصحیح بخشے اور اس  مصیبت سے بچایا۔یہ شکریہ اپنی حفاظت کا ہے نہ کہ اس کی آفت میں مبتلا ہونے کا۔

۳؎ کیونکہ ابوجعفر نےحضورصلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایامگر دوسری روایت سے اس حدیث کوقوت ملتی ہے۔حدیث میں ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اپاہج کو دیکھ کر سجدہ کیا۔دوسری روایت میں ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بگڑی شکل والے کو دیکھ کرسجدہ کیا۔(مرقاۃ)نغاش نغش سے بنا،بمعنی بہت پست قد،ضعیف الحرکت،ناقص الخلقت انسان۔علماءفرماتے ہیں کہ دینی آفت زدہ کو دیکھ کربھی خدا کا شکر کرنا چاہیئے،حضرت شبلی نے ایک دنیا میں پھنسے آدمی کو دیکھا تو سجدے میں گر گئے اور آپ نے یہ دعا پڑھی"اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِیْ مِمَّا ابْتَلَاكَ بِہٖ وَفَضَّلَنِیْ عَلیٰ کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیْلًا"۔یہ دعا ہر دینی و دنیاوی مصیبت زدہ کو دیکھ کر پڑھی جائے تو ان شاءاﷲ پڑھنے والا اس مصیبت سے دور رہے گا،دنیاوی مصیبت والے کو دیکھ کر آہستہ پڑھے،فاسق و بدکارکو دیکھ کر آواز سے پڑھے تاکہ اسے عبرت ہو۔

1496 -[3]

وَعَن سعد بن أبي وَقاص قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نم مَكَّةَ نُرِيدُ الْمَدِينَةَ فَلَمَّا كُنَّا قَرِيبًا مِنْ عَزْوَزَاءَ نَزَلَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا اللَّهَ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيلًا ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيلًا ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا قَالَ: «إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي وَشَفَعْتُ لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي الثُّلُثَ الْآخِرَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ معظمہ سے چلے مدینہ پاک کا ارادہ کرتے تھے جب ہم عزوزاء کے قریب پہنچے ۱؎  توحضور ا ترے پھر اپنے ہاتھ اٹھائے ایک گھڑی اﷲ سے دعا مانگی پھرسجدے میں گرے اس میں بہت ٹھہرے پھر اٹھے تو ایک گھڑی اپنے ہاتھ اٹھائے رہے۲؎  پھرسجدے میں گرے وہاں بہت ٹھہرے پھر اٹھے ایک گھڑی اپنے ہاتھ اٹھائے پھر سجدےمیں گرے  فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے سوال کیا اورشفاعت کی تو رب نے مجھے تہائی امت دے دی میں رب کا شکر کرتے سجدے میں گرگیا پھر میں نے اپنا سر اٹھایا اپنے رب سے اپنی امت کے لیئے سوال کیا مجھے تہائی امت دے دی میں رب کا شکر کرتے سجدے میں گرگیا پھر میں نے اپنا سر اٹھایا اپنے رب سے اپنی امت کے لیے سوال کیا اس نے مجھے آخری تہائی بھی دے دی تو میں رب کا شکر کرتے سجدے میں گر گیا۳؎(احمد،ابوداؤد)

 



Total Pages: 519

Go To