Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1492 -[13]

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فصلى بهم فَقَرَأَ بِسُورَة م الطُّوَلِ وَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَقَرَأَ بِسُورَةٍ مِنَ الطُّوَلِ ثُمَّ رَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ كَمَا هُوَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ يَدْعُو حَتَّى انْجَلَى كسوفها. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گھر گیا تو آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی طوال کی کوئی سورۃ پڑھی ۱؎  اور پانچ رکوع کیئے اور دوسجدے پھر دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے توطوال کی کوئی سورت پڑھی پھر پانچ رکوع کیئے اور دو سجدے پھر جیسے تھے ویسے ہی قبلے کو منہ کیے بیٹھے بیٹھے دعا مانگتے رہے حتی کہ اس کاگرہن کھل گیا۲؎ (ابوداؤد)

۱؎  سورۂ حجرات سے بروج تک کی سورتیں طوال یا طول کہلاتی ہیں،حضرت اُبی ابن کعب کا یہ فرمانا اندازے سےہے نہ کہ سن کر اسی لیے آپ نے سورۃ کانام نہیں لیا۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت تو آہستہ تھی جیساکہ پہلےگزر چکا،یعنی اتنی لمبی رکعت ادا کی کہ شایدطوال کی سورۃ پڑھی۔

۲؎  اس حدیث میں فی رکعت پانچ رکوع ثابت ہوئے۔چار،تین،دو،ایک کی روایتیں گزرچکیں۔ان احادیث میں مطابقت ناممکن ہے اسی لیے ایک رکوع  کی روایت قابل عمل ہے۔خیال رہے کہ نمازگرہن کے بعد دعا مانگنابھی سنت ہے،بیٹھ کر مانگے یا کھڑے ہوکر قبلہ رو ہویا قوم کی طرف رخ کرے،امام دعا مانگے لوگ آمین کہیں گے،کھڑے ہوکر دعا مانگے،لاٹھی یا کمان پر ٹیک لگانا بہترہے۔(فتح القدیر وغیرہ)

1493 -[14]

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ وَيَسْأَلُ عَنْهَا حَتَّى انْجَلَتِ الشَّمْسُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَفِي رِوَايَةِ النَّسَائِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى حِينَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ مِثْلَ صَلَاتِنَا يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ وَلَهُ فِي أُخْرَى: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا مُسْتَعْجِلًا إِلَى الْمَسْجِدِ وَقَدِ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى حَتَّى انْجَلَتْ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَقُولُونَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ عُظَمَاءِ أَهْلِ الْأَرْضِ وَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا خَلِيقَتَانِ مِنْ خَلْقِهِ يُحْدِثُ اللَّهُ فِي خَلْقِهِ مَا شَاءَ فَأَيُّهُمَا انْخَسَفَ فَصَلُّوا حَتَّى ينجلي أَو يحدث الله أمرا "

روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گھر گیا تو دو دو رکعتیں پڑھتے رہے اورسورج کے بارے میں پوچھتے جاتے تھے حتی کہ سورج کھل گیا ۱؎(ابوداؤد)اور نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ جب سورج گہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری تمام نمازوں کی طرح نماز پڑھی کہ رکوع اورسجدہ کرتے تھے۲؎  اور اس کی دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن جلدی جلدی مسجد کی طرف آئے سورج گہہ گیا تھا تو نماز پڑھی حتی کہ کھل گیا پھر فرمایا کہ جاہلیت والے کہتے تھے کہ سورج اور چاند زمین کےکسی بڑے آدمی کے مرنے پر گہتے ہیں۳؎  حالانکہ سورج چاند نہ کسی کی موت گہیں نہ کسی کی زندگی پر یہ تو خلق الٰہی  میں سے دو مخلوق ہیں اﷲ اپنی مخلوق پر جو چاہے حادثہ کرے۴؎ لہذا تم نماز پڑھاکروحتی کہ سورج کھل جائے یا اﷲ کوئی واقعہ پیدا کردے ۵؎

۱؎  شارحین نے اس کی شرح میں بہت دشواری محسوس کی ہے کیونکہ گزشتہ احادیث میں صرف دو رکعتوں کا ذکر تھا اور یہاں زیادہ کا،بعض نے فرمایا کہ جب گرہن جلدی کھل گیا تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور جب دیر میں کھلا تو



Total Pages: 519

Go To