$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

الفصل الثانی

دوسری فصل

1490 -[11]

عَن سَمُرَة بن جُنْدُب قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفٍ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز پڑھائی تو ہم آپ کی آواز نہیں سنتے تھے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)

۱؎ یعنی اس نماز میں آہستہ قرأت کی یہی امام اعظم کا مذہب ہے،بعض روایات میں جہری قرأت کا بھی ذکر ہے،جب جہرو اخفا ء میں تعارض ہوا تو اخفاء کی روایات کو ترجیح ہوئی کیونکہ دن کی نمازوں میں اخفاء اصل ہے۔

1491 -[12]

وَعَن عِكْرِمَة قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَاتَتْ فُلَانَةُ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَّ سَاجِدًا فَقِيلَ لَهُ تَسْجُدُ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَيْتُمْ آيَةً فَاسْجُدُوا» وَأَيُّ آيَةٍ أَعْظَمُ مِنْ ذَهَابِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت عکرمہ سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس سے کہا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فلاں بیوی وفات پاگئیں تو آپ سجدہ میں گر گئے  ۱؎  آپ سے کہا گیا کہ کیا اس گھڑی سجدہ کرتے ہیں تو فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کوئی نشانی دیکھو تو سجدہ کرو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے تشریف لے جانے سے بڑی کون سی نشانی ہے ۲؎(ابوداؤد،ترمذی)

۱؎   یہ سجدہ ہیبت کا تھا کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اور بیویاں زمین والوں کے لیے امن ہیں،ان کی وفات امن کا اٹھناہے اور ان کا جانا مصیبتوں کا آناہے۔خیال رہے کہ یہ بی بی صاحبہ حضرت صفیہ ہیں،بعض نے کہا کہ حضرت حفصہ مگر پہلا قول قوی ہے اورعکرمہ حضرت ابن عباس کے غلام ہیں عکرمہ ابن ابوجہل اور ہیں۔

۲؎ مرقات ولمعات نے اس جگہ فرمایا کہ یہ حضرات بابرکت ہیں جن کے وسیلہ سے عذاب دور رہتاہے،رب کی رحمتیں آتی ہیں،ان کی وفات پر ذکر اﷲ تعالی،نوافل اورسجدے زیادہ کروکیونکہ ان کی حیات کی برکت تو جاتی رہی  اب اﷲ کے ذکر کی برکت سے عذاب دور ہے۔خیال رہے کہ ازواج مطہرات کی وفات کی طرح سورج گرہن بھی اﷲ کی نشانی ہے،لہذا اس وقت بھی ذکرونفل اورسجود چاہیئے اس لیے یہ حدیث اس باب میں لائی گئی۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1492 -[13]

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فصلى بهم فَقَرَأَ بِسُورَة م الطُّوَلِ وَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَقَرَأَ بِسُورَةٍ مِنَ الطُّوَلِ ثُمَّ رَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ كَمَا هُوَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ يَدْعُو حَتَّى انْجَلَى كسوفها. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گھر گیا تو آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی طوال کی کوئی سورۃ پڑھی ۱؎  اور پانچ رکوع کیئے اور دوسجدے پھر دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے توطوال کی کوئی سورت پڑھی پھر پانچ رکوع کیئے اور دو سجدے پھر جیسے تھے ویسے ہی قبلے کو منہ کیے بیٹھے بیٹھے دعا مانگتے رہے حتی کہ اس کاگرہن کھل گیا۲؎ (ابوداؤد)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html