Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1488 -[9]

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كُنْتُ أرتمي بأسهم لي بالمدين فِي حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ كُسِفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهَا. فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى مَا حَدَثَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ. قَالَ: فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الصَّلَاةِ رَافِعٌ يَدَيْهِ فَجعل يسبح ويهلل وَيكبر ويحمد وَيَدْعُو حَتَّى حَسَرَ عَنْهَا فَلَمَّا حَسَرَ عَنْهَا قَرَأَ سُورَتَيْنِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ وَكَذَا فِي شَرْحِ السُّنَّةِ عَنْهُ وَفِي نُسَخِ الْمَصَابِيحِ عَنْ جَابِرِ بن سَمُرَة

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن سمرہ سے ۱؎ فرماتے ہیں میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی شریف میں مدینہ میں تیر اندازی کررہا تھا کہ سورج گرہن ہوگیا میں نےتیر تو پھینک دیئے اورسوچاکہ رب کی قسم میں دیکھوں گا کہ سورج گرہن میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا واقعہ پیش آیا۲؎  فرماتے ہیں میں وہاں آیا تو حضورنماز میں ہاتھ اٹھائے کھڑے تھے۳؎ تو آپ تسبیح،تہلیل وتکبیر اور حمد کہہ رہے تھے دعا مانگ رہے تھےحتی کہ سورج سے گرہن کھل گیا جب گرہن کھل گیا تو آپ نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز ادا کی۴؎ مسلم نے اپنی صحیحین میں عبدالرحمان بن سمرہ سے روایت کی اسی طرح شرح سنہ میں انہیں سے اور مصابیح کے نسخوں میں حضرت جابر ابن سمرہ سے۵؎

۱؎  آپ کی کنیت ابوسعید اشجعی ہے،آپ عبد الشمس ابن عبدمناف کی اولاد سے ہیں،آپ کا اصلی نام عبدالکعبہ تھا،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمان رکھا،خلافت عثمانیہ میں سجستان اور کابل آپ ہی نے فتح کیا۔(اشعۃ اللمعات)فتح مکہ کے دن ایمان لائے،بصرہ میں قیام رہا،    ۵۱ھ؁ میں وفات پائی۔(اکمال)

۲؎  یعنی آپ اس وقت کیا کررہے ہیں تاکہ میں خودبھی وہ عمل کیاکروں اور لوگوں کوتبلیغ بھی کروں۔

۳؎  یعنی زیر ناف ہاتھ باندھےکیونکہ اس وقت ہاتھ چھوٹے اور لٹکے ہوئے نہیں ہوتے بلکہ اٹھے اور بندھے ہوئے ہوتے ہیں یا صلوٰۃ بمعنی دعا ہے،یعنی آپ نماز سے فارغ ہوچکے تھےیا تیاری نماز میں تھے،ہاتھ اٹھائے دعا مانگ رہے تھے ورنہ نمازگرہن کے قیام میں ہاتھ اٹھانے کا کوئی موقع نہیں اور نہ یہ کسی کا مذہب ہے۔

۴؎  یعنی پوری کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے نماز گرہن میں دیر تک تسبیح وتہلیل وغیرہ کی،پھرسورۃ فاتحہ وغیرہ پڑھ کر رکوع سجدہ وغیرہ کرکے سلام پھیردیا۔اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ہر رکعت میں ایک ہی رکوع اور دو سجدے کیے،نماز کو زیادہ رکوعوں سے دراز نہیں کیا،بلکہ زیادہ ذکروں سے،یہ حدیث بھی امام اعظم کی دلیل ہے۔

۵؎  یعنی مصابیح میں بجائے عبدالرحمن کے جابر ہے،میں نے درست کرکے مشکوٰۃ میں عبدالرحمن کردیا۔اس جگہ مرقاۃ نے ترمذی،بخاری وابوداؤد،نسائی اورحاکم کی احادیث بروایت ابن عمر،عبداﷲ ابن عمر،سمرہ ابن جندب،نعمان ابن بشیر،قبیصہ ہلالی،ابی بکرہ وغیرہم سے بہت احادیث نقل کیں،جن میں نمازگرہن کی ہر رکعت میں ایک رکوع اور دو سجدوں کا ذکر ہے اور فرمایا کہ چند رکوع والی احادیث مضطرب متعارض ہیں۔ہم وہ تفصیل یہاں چھوڑتے ہیں اگرکسی کو شوق ہو تو اس جگہ مرقاۃ کا مطالعہ کرے۔

1489 -[10]

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: لَقَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَاقَةِ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت اسماء بنت ابی بکر سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا ۱؎(بخاری)

۱؎  کہ اس وقت غلام آزاد کیے جائیں کیونکہ اعتاق اور تمام قسم کی خیرات سے عذاب دفع ہوتا ہے۔

 

 



Total Pages: 519

Go To