Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

نمازوں کی طرح تھیں،نیزحضرت عبداﷲ ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازگرہن پڑھی،پھر کچھ خطبہ فرمایا جس کے آخری الفاظ یہ ہیں"فَاِذَارَءَیْتُمُوْھَا فَصَلُّوْا صَلَاۃَ کَمَا صَلَّیْتُمُوْھَا مِنَ الْمَکْتُوْبَۃِ"یعنی جب تم گرہن دیکھو تو جیسے اورفرض نمازیں پڑھتے ہو اسی طرح اس وقت بھی نفل پڑھ لیا کرو۔حدیث قولی اورفعلی سے معلوم ہوا کہ گرہن کی نماز اورنمازوں کی طرح ہے،زیادہ رکوع والی احادیث سخت مضطرب ہیں۔چنانچہ فی رکعت دو رکوع،تین رکوع،چار رکوع،پانچ رکوع احادیث میں آئے ہیں،لہذا ان میں سےکوئی حدیث قابل عمل نہیں،نیز زیادہ رکوع کی اکثر احادیث یاحضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہیں یا حضرت عبداﷲ ابن عباس سے،حضرت عائشہ صدیقہ بی بی ہیں اورحضرت ابن عباس بچے تھے یہ دونوں نماز میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے بہت دور رہتے تھے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع سجدے جیسے اگلی صف والوں پر ظاہر ہوں گے ویسے ان پرنہیں ہوسکتے اورمردوں کی روایت ایک رکوع کی ہے،لہذا تعارض کے وقت ان کی روایت قوی ہوگی،نیز چند رکوع والی حدیثیں قیاس شرعی کےبھی خلاف ہیں اور ایک رکوع والی حدیث قیاس کے مطابق اس لیے تعارض کے وقت ایک رکوع والی حدیث کو ترجیح ہوگی،اس بناء پر امام صاحب نے ان روایتوں پرعمل نہ کیا۔

۳؎  آپ کا فرمان اپنے متعلق ہے یعنی حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نمازباجماعت بہت دراز فرمائی ورنہ خودحضورصلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد اس سےبھی دراز پڑھتے تھے۔

1481 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَهَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الخسوف بقرَاءَته

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن کی نماز میں اونچی قرأت کی  ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎  بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں چاندگرہن کی نماز مراد ہے کیونکہ مطلقًا خسوف چاندگرہن پر ہی بولاجاتاہے،سورج گرہن کے بارے میں عنقریب احادیث آرہی ہیں کہ آپ نے آہستہ قرأت کی،چونکہ چاندگرہن کی نماز رات میں ہوتی ہے لہذا وہاں جہرمناسب ہے اورسورج گرہن کی نماز دن میں ہوتی ہے،وہاں آہستہ پڑھنابہتر۔خیال رہے کہ اس حدیث میں جماعت کا ذکرنہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے چاندگرہن کی یہ نماز جماعت سے پڑھی۔

1482 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: انْخَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا نَحْوًا مِنْ قِرَاءَةِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ -[468]- الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثمَّ انْصَرف وَقد تجلت الشَّمْس فَقَالَ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ الله رَأَيْنَاك تناولت شَيْئا فِي مقامك ثمَّ رَأَيْنَاك تكعكعت؟ قَالَ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «إِنِّي أريت الْجنَّة فتناولت عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا وأريت النَّار فَلم أر منْظرًا كَالْيَوْمِ قَطُّ أَفْظَعَ وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ» . قَالُوا: بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «بِكُفْرِهِنَّ» . قِيلَ: يَكْفُرْنَ بِاللَّهِ؟ . قَالَ: " يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَو أَحْسَنت إِلَى أحداهن الدَّهْر كُله ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْك خيرا قطّ "

روایت ہےحضرت عبداﷲ ابن عباس سے فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گھر گیا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی آپ نے درازقیام کیاسورۂ بقرکی قرأت کے بقدر ۱؎ پھر دراز رکوع کیا پھر اٹھےتو بہت دراز قومہ کیا جو پہلے قیام سے کچھ کم تھا پھر دراز رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا پھر اٹھے پھر سجدہ کیا پھر قیام کیا تو بہت درازقیام فرمایا جوپہلےقیام سےکم تھا پھر دراز رکوع کیا جوپہلے رکوع سے کم تھا پھرسر اٹھایا تو درازقیام فرمایاجوپہلے قیام سےکم تھا پھر دراز رکوع کیا جوپہلے رکوع سےکم تھا پھر سر اٹھایا پھر سجدہ کیا ۲؎ پھر فارغ ہوئے جب کہ سورج صاف ہوچکا تھا۳؎ پھر فرمایا کہ سورج چاند اﷲ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں نہ توکسی کی موت کی وجہ سے گھٹتے ہیں نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے۴؎ جب تم یہ دیکھو تو اﷲ کا ذکر کرو۵؎ لوگوں نےعرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنی اس جگہ میں کچھ لیا پھر دیکھا کہ آپ پیچھے ہٹے فرمایا میں نے جنت ملاحظہ کی تو اس سے خوشہ لینا چاہا اگر لے لیتا تو تم رہتی دنیا تک کھاتے رہتے۶؎ اورمیں نے آگ دیکھی تو آج کی طرح گھبراہٹ والا منظرکبھی نہ دیکھا میں نے زیادہ دوزخی عورتیں دیکھیں۷؎  لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ یہ کیوں فرمایاان کے کفر کی وجہ سے عرض کیا گیا کہ کیا اﷲ کی کافرہ ہیں فرمایا خاوند کی ناشکری ہیں احسان کی منکرہیں اگر تم ان سے زمانہ بھر تک بھلائی کرو،پھر تمہاری طرف سے کچھ ذرا سی بات دیکھ لیں تو کہیں کہ میں نے تجھ سے کبھی بھلائی نہ دیکھی ۸؎(مسلم، بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To