$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب صلوۃ الخسوف

گرہن کی نماز کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  خسوفیا خسف کےمعنی ہیں دھنس جانا،اہل عرب کہتے ہیں"خَسَفَتِ الْعَیْنُ فِی الرَّاسِ"آنکھ سر میں دھنس گئی اور کہا جاتاہے"خَسَفَ الْقَارُوْنُ فِی الاَرْضِ"قارون زمین میں دھنس گیا،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَخَسَفْنَا بِہٖ وَبِدَارِہِ الْاَرْضَ"۔اب اصطلاح میں چاندگرہن کو خسوف اورسورج گرہن کو کسوف کہتے ہیں کیونکہ اس وقت چاند،سورج دھنسا ہوا محسوس ہوتاہے۔خیال رہے کہ یہاں خسوف سے مطلقًاگرہن مراد ہے چاند کا ہویاسورج کا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز بھی پڑھی ہے اور چاندگرہن کی بھی کیونکہ     ۵ھ؁ میں چاندگرہن لگاتھاجمادی الآخرہ میں جیساکہ ابن حبان وغیرہ میں۔نماز کسوف باجماعت ہوگی اور چاندگرہن کی نمازعلیحدہ علیحدہ یہ دونوں نمازیں سنت ہیں،دو،دو رکعتیں ہیں عام نمازوں کی طرح پڑھی جائیں گی،ہاں ان میں قیام،رکوع وغیرہ بہت درازہوگا۔

1480 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ الشَّمْسَ خَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ مُنَادِيًا: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَتقدم فصلى أَربع رَكْعَات وَفِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبع سَجدَات. قَالَت عَائِشَة: مَا رَكَعْتُ رُكُوعًا قَطُّ وَلَا سَجَدْتُ سُجُودًا قطّ كَانَ أطول مِنْهُ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج کو گرہن لگا ۱؎  تو آپ نے اعلانچی بھیجا کہ نمازتیارہے پھر آپ امام ہوئے تو دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کیئے۲؎  حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس سے دراز رکوع و سجدے کبھی نہ کیئے۳؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  جس دن حضرت ابراہیم ابن رسول اﷲ کی وفات ہوئی،بعض علماء فرماتے ہیں کہ وہ چاندکی دس تاریخ تھی لہذا فلاسفہ کا یہ قول باطل ہے کہ سورج گرہن چاند کی بالکل آخری تاریخوں میں ہی لگ سکتا ہے۔خیال رہے کہ کفار عرب اور مشرکین ہند کے اس گرہن کے متعلق عجیب خیالات ہیں۔کفار عرب کہتے تھے کہ کسی برے آدمی کی پیدائش یا اچھے آدمی کی وفات پرگرہن لگتا ہے۔مشرکین ہند کا عقیدہ ہے کہ چاند اورسورج پہلے انسان تھے،انہوں نےبھنگیوں چماروں سے کچھ قرض لیا اور ادا نہ کیا اس سزا میں انہیں گرہن لگتا ہے۔چنانچہ ہندوگرہن کے وقت بھنگیوں کو خیرات دیتے ہیں اور مانگنے والےبھنگی بھی کہتے ہیں کہ سورج مہاراج کا قرض چکاؤ۔اسلام ان لغویات سے علیحدہ ہے،وہ فرماتاہے کہ یہ اﷲ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جب چاہے چاندسورج کو نورانی کردے اور جب چاہے ان کا نورچھین لے۔چونکہ یہ قہرخداوندی کے ظہور کا وقت ہے اس لیے اس وقت نماز پڑھو،دعائیں مانگو،صدقہ دو،غلام آزاد کرو تاکہ رحم کیے جاؤ ۔

۲؎   یعنی ہر رکعت میں دو رکوع اور دو سجدے۔اس حدیث کی بنا پر امام شافعی نماز کسوف میں ہر رکعت میں دو رکوع  مانتے ہیں،ہمارے امام صاحب کے ہاں ہر رکعت میں ایک رکوع ہوگا اور دوسجدے اس لیے کہ حاکم نے باسنادصحیح جو مسلم،بخاری کی شرط پر ہے حضرت ابوبکر سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندسورج کے گرہن کے وقت دو رکعتیں پڑھیں جو عام



Total Pages: 519

Go To
$footer_html