Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

846 -[25]

وَعَن أبي زُهَيْر النميري قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتِ يَوْمٍ فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ قَدْ أَلَحَّ فِي الْمَسْأَلَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَوْجَبَ إِنْ خَتَمَ ". فَقَالَ: رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: بِأَيِّ شَيْءٍ يَخْتِمُ؟ قَالَ: «بآمين» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابو زہیرنمیری سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات نکلے تو ایک شخص ایسے پر پہنچے جو دعا مانگنے میں بہت مبالغہ کررہا تھا حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ مہر لگاوے ۲؎تو واجب کرے گا قوم میں سے ایک آدمی نے کہا کہ کس چیز سے مہر لگا ئے فرمایا آمین سے۔ (ابوداؤد)

۱؎ آپ کا نام یحیی بن نضیر ہے،اہل شام میں سے ہیں،صحابی ہیں۔

۲؎ یعنی اگر یہ دعا کے آخر میں آمین کہہ لے تو رب اس کی دعا قبول کرے کہ جیسے مہر کی وجہ سے پارسل بغیر ٹوٹے پھوٹے منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے ایسے ہی آمین کی برکت سے دعابخیریت رب تک پہنچتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ خارج نمازبھی جب دعا مانگے تو آمین کہے۔

847 -[26]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْمَغْرِبَ بِسُورَةِ (الْأَعْرَافِ)فَرَّقَهَا فِي رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب میں سورۂ اعراف پڑھی یہ سورت دو رکعتوں میں تقسیم کردی ۱؎(نسائی)

۱؎ ظاہر یہ ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوری سورت دو رکعتوں میں پڑھی۔اس سے اشارۃ ً معلوم ہوا کہ کنارۂ  آسمان میں سیاہی آنے تک وقت مغرب رہتا ہے سفیدی وقت عشاء نہیں ورنہ اتنی بڑی سورت دو رکعتوں میں پھر بقیہ نماز کا ادا کرنا مشکل ہوتا،لہذا یہ حدیث حنفیوں کی دلیل ہے۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل بیان جواز کے لیے ہے،ورنہ مغرب میں چھوٹی سورتیں پڑھنا افضل ہے جیسا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا اکثری عمل تھا۔

848 -[27]

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ فِي السَّفَرِ فَقَالَ لِي: «يَا عُقْبَةُ أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا؟» فَعَلَّمَنِي (قُلْ أَعُوذُ بِرَبّ الفلق)و (قل أَعُود بِرَبّ النَّاس)قَالَ: فَلَمْ يَرَنِي سَرَرْتُ بِهِمَا جَدًّا فَلَمَّا نَزَلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ صَلَّى بِهِمَا صَلَاةَ الصُّبْحِ لِلنَّاسِ فَلَمَّا فَرَغَ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: «يَا عُقْبَةَ كَيْفَ رَأَيْتَ؟» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت عقبہ بن عامر سے فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں حضور کی اونٹنی کی مہارکھینچ رہا تھا کہ مجھ سے فرمایا اے عقبہ کیا میں تمہیں بہترین دو سورتیں نہ بتاؤں جو پڑھی جاتی ہیں مجھے "قُلْ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ"اور"قُلْ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ" سکھائی ۱؎  فرماتے ہیں کہ مجھے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو سورتوں کی وجہ سے زیادہ خوش ہوتے نہ دیکھاتو جب نمازصبح کے لیے اترے تو انہیں دو سورتوں سے لوگوں کو فجر پڑھائی جب فارغ ہوئے تومیری طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ اے عقبہ تم نے کیسا دیکھا ۲؎(احمد، ابوداؤد،نسائی)

۱؎ کیونکہ یہ دونوں سورتیں کلام الٰہی  بھی ہیں،دعا بھی اور مخلوق کے شر سے امن بھی،ہرمسلمان کو خصوصًا مسافر کو بہت مفید ہیں۔خیال رہے کہ قرآن کی بعض سورتیں بعض سے ثواب اور فائدے کے لحاظ سے اعلیٰ ہیں اگرچہ سب کلام اﷲ ہیں جیسے کہ کعبہ معظمہ کا رکن اسود باقی عمارت سے افضل اگرچہ سارا کعبہ بیت اﷲ ہے۔

 



Total Pages: 519

Go To