Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۳؎ مرض ظاہر ہونے کے یہ معنے ہیں کہ چارہ نہ کھائے اور سپنگ نہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ دبلے پن کی وجہ سے کھڑی نہ ہوسکے۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ قربانی کے اندرونی عیب جو محسوس نہ ہو ں مضر نہیں،فقہاء فرماتے ہیں کہ دیوانہ جانور جس کی دیوانگی ظاہر ہو اس کی قربانی نہ کی جائے۔

1466 -[14]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشٍ أَقْرَنَ فَحِيلٍ يَنْظُرُ فِي سَوَادٍ وَيَأْكُلُ فِي سَوَادٍ وَيَمْشِي فِي سَوَادٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت ابوسعیدسے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سینگ والے بکرے کی قربانی کرتے تھے جو سیاہی میں دیکھے،سیاہی میں کھائے اورسیاہی میں چلے ۱؎(ترمذی،ابو داؤد،نسائی،ابن ماجہ)

۱؎ کیونکہ ایساجانور بہت حسین ہوتاہے،علماء فرماتے ہیں کہ موٹے اورسرمگیں آنکھ والے بکرے کی قربانی افضل ہے اور قربانی میں زیادہ گوشت دیکھو زیادہ چربی نہ دیکھو۔ایک موٹے بکرے کی قربانی دو دنبوں کی قربانی سے افضل ہے۔

1467 -[15]

وَعَن مجاشع مِنْ بَنَى سُلَيْمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «إِنَّ الْجَذَعَ يُوفِي مِمَّا يُوفِي مِنْهُ الثَّنِيُّ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت مجاشع سے جوبنی سلیم سے ہیں ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بھیڑ کاشش ماہیہ بچہ اس میں کفایت کرتا ہے جس میں بکری کا ایک سالہ بچہ کافی ہو۲؎(ابو داؤد،نسائی،ابن ماجہ)

۱؎ آپ کا نام مجاشع ابن مسعود ابن ثعلبہ ابن وھب سلمی ہے،صحابی ہیں،مہاجر ہیں،حضرت مجالد کے بھائی ہیں۔

۲؎ یعنی بھیڑ اور دنبہ کےشش ماہہ موٹے بچہ کی قربانی جائز ہے اگر ایک سالہ بکریوں سے مل جائے،اس کی شرح پہلے گزر چکی۔جذع اور ثنی کے معنی کی تحقیق پہلے کی جاچکی۔

1468 -[16]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:«نِعْمَتِ الْأُضْحِيَّةُ الْجذع من الضَّأْن».رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتےہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا بھیڑ کے شش ماہے بچہ کی قربانی اچھی ہے ۲؎(ترمذی)

۱؎ یہ اس لیئے فرمایا کہ لوگ اس کی قربانی میں تامل اور دغدعہ نہ کریں کیونکہ بظاہر اس کی قربانی جائز نہ معلوم ہوتی تھی۔اس حدیث کی بناء پرتمام علماء بلکہ صحابہ کرام کا اتفاق ہے کہ شش ماہہ دنبہ یابھیڑ کی قربانی جائز ہے۔(لمعات)

1469 -[17]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ الْأَضْحَى فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَقَرَةِ سَبْعَةٌ وَفِي الْبَعِيرِ عَشَرَةٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غريبٌ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفرمیں تھے ۱؎ کہ بقرعید آگئی تو ہم گائے میں سات اور اونٹ میں دس آدمی شریک ہوگئے ۱؎(ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

 



Total Pages: 519

Go To