Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

حالات دیکھتے تھے۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ قربانی صرف مکہ مکرمہ میں چاہیئے اور کہیں نہیں۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ خصی جانور کی قربانی جائز ہے کہ خصی ہونا عیب نہیں بلکہ کمال ہے کہ خصی کا گوشت اعلیٰ ہوتا ہے،یوں ہی خصی بیل،خصی بھینسے کی بھی قربانی درست ہے۔

۲؎ علماءفرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اﷲ تعالٰی نے ہمیشہ یعنی نبوت کےظہورسے پہلے اور بعدشرک وکفر اور گناہ سےمحفوظ رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اول عمر ہی سے عابدوزاہد تھے،کسی عبادت میں کسی دوسرے نبی کی اتباع نہ کی بلکہ ظہورنبوت سے پہلے دین ابراہیمی کی عبادتیں کرتے تھے جو اسلامی عبادات کے مطابق تھیں۔جب حضورصلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی آئی تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم غارِحرا میں اعتکاف وعبادات کررہے تھے۔(شامی وغیرہ)

۳؎ یہ قرآن کریم کی آیت ہے جسےحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ نماز شروع کرتے وقت اور قربانی کرتے وقت پڑھا۔یہاں نسک سے مراد قربانیاں ہیں ورنہ اس موقعہ پر یہ آیت پڑھنا درست نہ ہوتا۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ قربانی کا ثبوت قرآن سےنہیں۔خیال رہے کہ نُسُك جمع ہے نَسِیْکہ کی،اس کے معنی اعمال حج بھی ہیں اور قربانیاں بھی مگر یہاں قربانی مراد ہے اس کی تفسیر وہ آیت ہے"فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ

۴؎ یعنی خدایا یہ قربانی تیری توفیق سے تیرے راضی کرنے کے لیئے کررہا ہے،اسے میرے اورمیری امت کی طرف سے قبول فرما،اس کی شرح ہوچکی۔

۵؎ یعنی تا قیامت فقرائے امت کی طرف سے میری یہ دوسری قربانی ہے،اب امرائے امت کو چاہیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھی قربانی کیا کریں۔اس سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ قربانی واجب ہے اور مالی عبادات میں نیابت جائز ہے۔

1462 -[10]

وَعَنْ حَنَشٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: (إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ

روایت ہے حضرت حنش سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو دیکھا کہ آپ دو بکرے قربانی دیتے تھے میں نے عرض کیا یہ کیا فرمایا مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی کہ میں آپ کی طرف سے بھی قربانی کیا کروں لہذا میں حضور کی طرف سے قربانی کرتا ہوں ۱؎(ابوداؤد)اور ترمذی نے اس کی مثل۔

۱؎ ظاہر یہ ہے کہ حضرت علی تین بکرے قربانی کرتے تھے دوحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مطابق آپ کی حیات شریف کے اور ایک اپنی طرف سے۔اس سےمعلوم ہوا کہ بعد وفات مرحوم کی طرف سے قربانی دیناجائزہے،ہاں اگر میت کی قربانی ہوتو اس کا سارا گوشت خیرات کردیا جائے اگر وارث اپنی جانب سے محض ثواب کے لیئے میت کی طرف سے قربانی کرے تو خودبھی کھائے اورفقراءو امیرسب کوکھلائے،حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی قربانی توتبرک ہے،مسلمان برکت کے لیئے کھائیں،آج بھی بعض خوش نصیب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرتے ہیں،ان کی اصل یہ حدیث ہے۔

1463 -[11]

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ وَأَلَّا نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ وَلَا شَرْقَاءَ وَلَا خَرْقَاءَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ والدارمي وانتهت رِوَايَته إِلَى قَوْله: وَالْأُذن

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں ہمیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم آنکھ،کان،دیکھ لیں ۱؎ نہ اگلے کان کٹے کی قربانی کریں نہ پچھلے کی نہ کان چرے کی نہ کان پھٹے کی۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،دارمی،ابن ماجہ)ابن ماجہ کی روایت أذن پرختم ہوگئی۔

 



Total Pages: 519

Go To