Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1458 -[6]

وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْجَزُورُ عَنْ سَبْعَةٍ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَهُ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گائے سات کی طرف سےہے اوراونٹ سات کی طرف سے ۱؎(مسلم وابوداؤد)لفظ ابوداؤد کے ہیں۔

۱؎ یعنی گائے اور اونٹ کی قربانی میں سات آدمی شریک ہوسکتےہیں بشرطیکہ ان میں سےکوئی گوشت یاتجارت گوشت کے لیئے شریک نہ ہویا سارے قربانی کرنے والے ہوں یابعض عقیقہ والے۔خیال رہے کہ حنفی اور شافعی سب اس پر متفق ہیں کہ گائے اور اونٹ میں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں،صرف اسحق ابن راہویہ کہتے ہیں کہ اونٹ میں دس آدمی شریک ہوسکتے ہیں،یہ حدیث احناف اورشوافع کی دلیل ہے۔

1459 -[7]

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَأَرَادَ بَعْضُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا» وَفِي رِوَايَةٍ «فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفْرًا» وَفِي رِوَايَةٍ «مَنْ رَأَى هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہےحضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب عشرہ آجائے تو تم میں سےکوئی قربانی کرناچاہے تو اپنے بال وکھال کو بالکل ہاتھ نہ لگائے ۱؎ اور ایک روایت میں ہے نہ بال لے نہ ناخن کاٹے،ایک روایت میں ہے کہ جو بقرعید کاچاند دیکھے اورقربانی کرناچاہے تو نہ اپنے بال لے نہ ناخن ۲؎(مسلم)

۱؎ یعنی جو امیر وجوبًا یا فقیرنقلًا قربانی کا ارادہ کرے وہ بقرعید کا چاند دیکھنے سے قربانی کرنے تک ناخن بال اور مردار کھال وغیرہ نہ کاٹے نہ کٹوائے تاکہ حاجیوں سے قدرے مشابہت ہوجائے کہ وہ لوگ احرام میں حجامت نہیں کراسکتے اور تاکہ قربانی ہربال ناخن کا فدیہ بن جائے،یہ حکم استحبابی ہے وجوبی نہیں،لہذا قربانی والے پر حجامت نہ کرانابہترہے لازم نہیں،اس سےمعلوم ہوا کہ اچھوں سے مشابہت بھی اچھی ہے۔

۲؎ بلکہ جو قربانی نہ کرسکے وہ بھی اس عشرہ میں حجامت نہ کرائے،بقرعید کے دن بعد نماز حجامت کرائے تو ان شاءاﷲ ثواب پائے گا،جیسا کہ بعض روایات میں ہے۔خیال رہے کہ مَنْ اَرَادَ سے بعض شوافع فرماتے ہیں کہ قربانی واجب نہیں صرف سنت ہے ورنہ یہ کیوں فرمایا جاتا کہ جو قربانی کرنا چاہے وہ حجامت نہ کرائے ا ور کہتے ہیں کہ حضرت صدیق و فاروق قربانی نہیں کرتے تھے تاکہ لوگ اسے واجب نہ سمجھ جاویں،مگر یہ دلیل بہت کمزور ہے کیونکہ حدیث شریف میں نماز جمعہ کے اور حج کیلیئے بھی مَنْ اَرَادَ ارشاد ہوا ہے کہ فرمایا جو جمعہ پڑھنا چاہے وہ غسل کرے جو حج کرنا چاہے وہ جلدی کرے حالانکہ جمعہ بھی فرض ہے اور حج بھی،چونکہ جمعہ و حج ہرشخص پر فرض نہیں اور قربانی ہرشخص پر واجب نہیں اسی لیے اس طرح ارشاد ہوا، اورحضرت صدیق وفاروق کا قربانی نہ کرنا کہیں ثابت نہیں۔(مرقاۃ)

1460 -[8]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشَرَةِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ زمانہ کوئی نہیں جن میں نیکیاں رب کو اس دن سے زیادہ پیاری ہوں ۱؎ لوگوں نےعرض کیا یا رسول اﷲ نہ اﷲ کی راہ میں جہاد فرمایا نہ اﷲ کی راہ میں جہاد سوائے اس کے جو اپنا جان و مال لے کر نکلا اور کچھ واپس نہ لایا ۲؎(بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To